
نئی دہلی، 20 ستمبر (ہ س)۔
ملک میں فلاحی اور سماجی ترقی کے کاموں کی سرپرستی کرنے والے معروف خیراتی ٹرسٹوں کے گروپ ٹاٹا ٹرسٹس نے این چندرشیکھرن کو دوبارہ ٹاٹا سنز کا ایگزیکٹو چیئرمین مقرر کرنے کے سلسلے میں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 17 ستمبر کے فیصلے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔
ٹاٹا ٹرسٹس نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں مو¿قف اختیار کیا کہ کمپنی کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن (اے او اے) کے تحت ٹرسٹ کی جانب سے نامزد کیے گئے ڈائریکٹروں کی اکثریت کی حمایت لازمی ہے۔ ٹرسٹس کے مطابق چیئرمین کا فیصلہ کن ووٹ اس شرط کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔
ٹرسٹس نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا تھا، اس لیے دو نامزد ڈائریکٹروں میں سے ایک کی مخالفت کے بعد اس تجویز کو قانونی طور پر منظور شدہ نہیں مانا جا سکتا۔
ملک کے سب سے بڑے صنعتی گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں یہ تنازع گزشتہ ہفتے اس وقت مزید گہرا ہو گیا، جب ٹاٹا سنز کے ڈائریکٹروں نے این. چندرشیکھرن کے ایگزیکٹو چیئرمین کی حیثیت سے نئی مدتِ کار کی منظوری دے دی۔ تاہم، گروپ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر نے اس ووٹنگ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ٹاٹا سنز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے این چندرشیکھرن کو ایگزیکٹو چیئرمین کی حیثیت سے مزید پانچ سال کی مدت دینے کے حق میں 4-1 سے ووٹ دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ