
ڈھاکہ، 20 ستمبر (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی اسپیشل رسپانس بٹالین (ایس آر بی) تھانوں سے لوٹے گئے تمام ہتھیار برآمد نہیں کر سکی ہے۔ 2024 میں طلبہ تحریک کے دوران تھانوں سے ہزاروں ہتھیار لوٹ لیے گئے تھے۔ اب تک 1,306 ہتھیار لاپتہ ہیں۔ ان میں سے کچھ ہتھیاروں کا بعد میں جرائم پیشہ افراد نے استعمال کیا۔ انہی ہتھیاروں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے۔ اس بات پر تشویش بڑھ گئی ہے کہ باقی ہتھیاروں کا استعمال آئندہ مقامی انتخابات میں اپنا دباؤ قائم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ایس آر بی کو 9 ستمبر کو ان ہتھیاروں کی برآمدگی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ایس آر بی عوام سے مدد مانگ رہی ہے۔ اطلاع دینے والوں کو انعام دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ لوگوں کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ پولیس ہیڈکوارٹر کے مطابق، 5 اگست 2024 کو مختلف تھانوں سے 5,763 ہتھیار لوٹ لیے گئے تھے۔ ان میں سے 14 ستمبر تک 4,457 ہتھیار برآمد کر لیے گئے، جبکہ 1,306 اب بھی لاپتہ ہیں۔ اسی دوران 6,52,008 راؤنڈ گولہ بارود بھی لوٹا گیا تھا۔ ان میں سے 3,94,895 راؤنڈ برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ 2,57,113 راؤنڈ اب بھی لاپتہ ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ زیادہ تر ہتھیار اور گولہ بارود نوعمر گینگ کے ارکان اور سیاسی کارکنوں نے لوٹے تھے۔ کچھ ہتھیار بعد میں کم قیمت پر جرائم پیشہ گروہوں کو فروخت کر دیے گئے۔ اب ان ہتھیاروں کا استعمال قتل، جبری وصولی، ڈکیتی، منشیات کے کاروبار اور زمین پر قبضہ کرنے جیسے جرائم میں کیا جا رہا ہے۔ کچھ ہتھیار ڈاکوؤں، اغوا کاروں، نوعمر گینگ، سمندری قزاقوں اور جنگل میں لوٹ مار کرنے والوں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔
پولیس نے حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ 26 اگست کو چٹگاؤں کے مجرم مبارک حسین عرف ’گلاکاٹا مبارک‘ کو گرفتار کرنے کے آپریشن کے دوران پولیس پر جس پستول سے فائرنگ کی گئی، وہ 5 اگست 2024 کو چٹگاؤں کے کوتوالی پولیس اسٹیشن سے لوٹی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، مبارک نے تفتیشی افسر کو بتایا کہ اسے یہ ہتھیار ایک دوسرے مجرم سے ملا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوٹے جانے کے بعد یہ ہتھیار کئی افراد کے ہاتھوں سے گزرا تھا۔
ایک اور معاملے میں میرپور سے برآمد کی گئی ایک غیر ملکی پستول کے بارے میں معلوم ہوا کہ اسے 5 اگست کے بعد ایک تھانے سے لوٹا گیا تھا۔ 2 مارچ کو سیدآباد بس ٹرمینل کے علاقے میں ایک آپریشن کے دوران نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے ایک انسپکٹر کو گولی مار دی گئی تھی۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث مشتبہ مجرم اور منشیات فروش ’آٹو ساجل‘ کو گرفتار کیا۔ اس سے حاصل معلومات کی بنیاد پر پولیس نے سومی باغ میں ایک کرائے کے مکان سے دو غیر ملکی پستول، چار میگزین، 77 راؤنڈ کارتوس اور 59 گرام ہیروئن برآمد کی۔ ساجل نے پولیس کو بتایا کہ یہ ہتھیار اگست میں واری پولیس اسٹیشن سے لوٹے گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز پولیس نے ارائیہزار بازار سینٹرل جامع مسجد کی دوسری منزل پر ایک شیلف سے ایک پستول، دو میگزین اور 20 کارتوس برآمد کیے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ سامان 2024 کی بغاوت کے دوران ارائیہزار پولیس اسٹیشن سے لوٹے گئے ہتھیاروں میں شامل تھا۔ پولیس کی تفتیش میں لوٹے گئے ہتھیاروں کی فروخت کے شواہد بھی ملے ہیں۔ کچھ لوگوں نے لوٹی گئی پستولیں محض 50 ہزار ٹکا میں فروخت کر دی تھیں۔
ایس آر بی کے سینئر افسر ونگ کمانڈر اے زیڈ ایم انتخـاب چودھری نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر انہیں لوٹے گئے یا غیر قانونی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو وہ اطلاع دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی برآمدگی کے لیے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کھلنا، راجشاہی اور چٹگاؤں سمیت کئی علاقوں میں غیر قانونی ہتھیاروں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات ملی ہیں۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد