
اداکارہ سوارا بھاسکر ایک بار پھر سنجے لیلا بھنسالی کی 2018 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پدماوت‘ کے جوہر کے منظر پر اپنے تبصرے کو لے کر بحث میں ہیں۔ ’ویمن، لائف، فریڈم‘ پروگرام میں سوارا نے اس منظر کو قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اداکارہ نے ایک ویڈیو شیئر کرکے اپنے بیان کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بات کا غلط ترجمہ اور غلط مفہوم نکال کر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے رانی پدماوتی اور جوہر کرنے والی خواتین کو ’بزدل‘ کہا تھا۔سوارا نے کہا کہ انہوں نے ایسا بالکل نہیں کہا۔ ان کے مطابق وہ فلم کے اختتامی منظر کو ایک مختلف تناظر میں دیکھ رہی تھیں اور ان کا سوال یہ تھا کہ اگر کوئی خاتون عصمت دری کا شکار ہو تو کیا اس کے لیے زندہ بچ جانا شرم کی بات ہونی چاہیے؟
اداکارہ نے کہا کہ ان کے تبصرے کا مقصد جوہر کرنے والی خواتین کو بزدل قرار دینا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں عصمت دری ایک سنگین اور وسیع مسئلہ بن چکا ہے اور ایسے ماحول میں فلموں کے پیغام پر بھی سوال اٹھایا جانا چاہیے۔سوارا نے سوال کیا کہ کیا کسی خاتون کی ’پاکیزگی‘ کو اس کی زندگی سے زیادہ اہم سمجھا جانا چاہیے؟ کیا عصمت دری کی شکار کسی خاتون کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ اس کا زندہ بچ جانا ہی غلط ہے؟
اداکارہ نے اپنے بیان کے تناظر میں نربھیا کے حوصلے کو بھی یاد کیا اور کہا کہ خواتین کے جینے کی خواہش اور ان کی جدوجہد کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔سوارا کے اصل تبصرے کے بعد کئی لوگوں نے جوہر کی ان کی تشریح کی مخالفت کی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ جوہر کو بزدلی کے طور پر نہیں بلکہ اس دور کی خواتین کے حوصلے اور ان کے حالات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’پدماوت‘ میں دیپیکا پادوکون نے رانی پدماوتی، شاہد کپور نے مہاراول رتن سنگھ اور رنویر سنگھ نے علاؤالدین خلجی کا کردار ادا کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan