روسی ہائبرڈ حملوں کا سامنا ہے، جواب دینے میں فرانس پیچھے نہیں ہٹے گا: میکرون
پیرس، 19 ستمبر(ہ س)۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روس کی جانب سے مختلف نوعیت کے مبینہ ہائبرڈ حملوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماسکو نے یہ طرزِ عمل ج
روسی ہائبرڈ حملوں کا سامنا ہے، جواب دینے میں فرانس پیچھے نہیں ہٹے گا: میکرون


پیرس، 19 ستمبر(ہ س)۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روس کی جانب سے مختلف نوعیت کے مبینہ ہائبرڈ حملوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماسکو نے یہ طرزِ عمل جاری رکھا تو یورپی ممالک اس کا جواب دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔میکرون نے پیرس میں پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اور فرانس کو درپیش خطرات میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر روس سے منسوب ہائبرڈ خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ مختلف ذرائع سے کیے جانے والے ایسے حملوں کا یورپی ممالک کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماسکو اسی راستے پر آگے بڑھتا رہا تو یہ اس کی ایک سنگین غلطی ہوگی۔میکرون کے مطابق مبینہ حملوں کا مقصد یورپی ممالک میں خوف پیدا کرنا اور یوکرین کی حمایت میں جاری کوششوں کو کمزور کرنا ہے، تاہم ان کے بقول اس کا نتیجہ اس کے برعکس نکلے گا۔ انہوں نے حالیہ موسم گرما میں جرمنی کے لائپزگ ہوائی اڈے پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کے واقعے کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا۔

فرانسیسی صدر نے کہا، ”ہم خوفزدہ نہیں ہیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ آج اور کل ہماری سلامتی یوکرین میں داو¿ پر لگی ہوئی ہے۔“میکرون نے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی حکومت کو ملک کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو مختلف نوعیت کے مبینہ روسی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ میں جارحیت کی نوعیت اور روس سے منسوب خطرات تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ بیداری اور تیاری ضروری ہے۔

میکرون نے دفاعی صنعتی اور ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ حساس مقامات اور اہم تنصیبات کو ممکنہ ڈرون اور سائبر حملوں سے محفوظ بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق پائیدار امن اور سلامتی کے لیے دفاعی و سکیورٹی کوششوں کو جاری رکھنے کے ساتھ قومی سطح پر لچک اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔

فرانسیسی صدر نے مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے بحرانوں، توانائی کی منڈیوں پر ان کے اثرات اور موجودہ توانائی کے بحران سے متعلق بھی گفتگو کی۔انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتوں میں جی 7 ممالک کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں توانائی کے مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ میکرون کے مطابق اجلاس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تعاون مضبوط کرنا اور توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جی 7 ممالک اور ان کے اہم شراکت داروں کے درمیان غیر ضروری کشیدگی سے بچنے کے لیے بھی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسٹریٹجک توانائی ذخائر سے ممکنہ رسد جاری کرنے اور بعض پابندیوں میں نرمی جیسے آپشنز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔میکرون نے کہا کہ جی 7 ممالک اس سے قبل بھی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کر چکے ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں بلانے کا اعلان کیا گیا ہے جب فرانسیسی حکومت کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملک کے اندر بڑھتے ہوئے احتجاج اور سیاسی دباو¿ کا سامنا ہے۔ میکرون نے سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور توانائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande