
نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اپنی قدیم ماحولیاتی سوچ کو جدید نقطہ نظر کے ساتھ جوڑتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز کا حل پیش کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ترقی تیز رفتار بھی ہے اور پائیدار بھی۔ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ہندوستان کی کوششیں صرف ملک کی ترقی کے اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کے لیے اس کی تعاون کے اعداد وشمار ہیں۔
وزیر اعظم وگیان بھون میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’ماحولیات اور آب و ہوا کے محرکات کا مستقبل ‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فطرت اور ماحولیات کے معاملے میں ہندوستان نے صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی ہے۔ اپنی روایات اور ثقافتی تجربات کو بنیاد بنا کر ہندوستان جدید موسمیاتی چیلنجز کا حل پیش کر رہا ہے اور انسانیت کی اجتماعی کوششوں کی اپیل کر رہا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر این جی ٹی کے عہدیداروں اور اس سے وابستہ افراد کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ اکثر کاربن اخراج کی ذمہ داری غلط طور پر ترقی پذیر ممالک پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی فی کس کاربن اخراج میں ہندوستان کا حصہ عالمی اوسط کے نصف سے بھی کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہندوستان کے مقابلے فی کس کاربن اخراج تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ ہندوستان عالمی پلیٹ فارموں پر اس حقیقت کو مضبوطی سے پیش کرتا ہے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان دنیا کو ساتھ لے کر ماحولیاتی تحفظ کے نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ ’ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ‘، بین الاقوامی شمسی اتحاد، ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کے لیے اتحاد (سی ڈی آر آئی)، روایتی ایندھن سے متعلق عالمی اتحاد ، انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس اور مشن لائف جیسے پلیٹ فارم موسمیات اور ماحولیات کے تئیں ہندوستان کے عزم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے میں ہندوستان نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 12 سال قبل ملک کی شمسی توانائی کی صلاحیت تقریباً دو گیگاواٹ تھی جو اب 160 گیگاواٹ سے تجاوز کرچکی ہے۔ پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت 50 لاکھ سے زیادہ گھروں میں چھتوں پر سولر پینل نصب کیے جاچکے ہیں۔ پی ایم ک±سم یوجنا کے تحت 30 لاکھ کسانوں کے کھیتوں میں شمسی پمپ لگائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صرف شمسی توانائی کے ذریعے تقریباً 20 کروڑ ٹن کاربن اخراج کو روکنے میں کامیابی ملی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تین گنا بڑھ گئی ہے اور پن بجلی کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غیر روایتی توانائی کی صلاحیت تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان کوئلے کے زیادہ صاف ستھرے استعمال کے لیے کوئلہ گیسی فکیشن جیسی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے اور جوہری توانائی کے شعبے میں بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
مودی نے کہا کہماحول دوست ٹرانسپورٹ اور گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں بھی ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین شروع ہوچکی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 950 گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2014 سے قبل ایک سال میں 3,000 سے بھی کم الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوتی تھیں، جبکہ گزشتہ سال تقریباً 25 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ 2014 تک پانچ شہروں میں تقریباً 250 کلومیٹر کا میٹرو نیٹ ورک تھا، جبکہ آج 20 سے زیادہ شہروں میں میٹرو چل رہی ہے اور ملک میں میٹرو نیٹ ورک 1,000 کلومیٹر سے تجاوز کرچکا ہے۔ ریلوے کے تقریباً 100 فیصد برقی کاری سے کروڑوں لیٹر ڈیزل کی کھپت میں کمی آئی ہے۔ تقریباً 3,000 کلومیٹر طویل ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پر چلنے والی مال گاڑیاں ایک وقت میں سیکڑوں ٹرکوں کے برابر سامان لے جا رہی ہیں۔ تقریباً 5,000 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہوں پر بھی نقل و حمل شروع ہوچکی ہے۔
وزیر اعظم نے پانی کے تحفظ کے شعبے میں ہونے والے کام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 70,000 سے زیادہ امرت سروور تعمیر کیے جاچکے ہیں۔ ’کیچ دی رین‘ مہم کے تحت تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے تیار کیے گئے ہیں۔ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے ذریعے دو کروڑ سے زیادہ کسان جدید آبپاشی سہولیات سے منسلک ہوئے ہیں۔ ’پر ڈراپ مور کراپ‘ مہم کے ذریعے پانی کی بچت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شری اَنّ ایسی فصلیں ہیں جن میں پانی کی کھپت کم ہوتی ہے۔ ہندوستان میں موٹے اناج کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی برآمد تقریباً ڈیڑھ لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان کی کوششوں کے نتیجے میں 2023 کو بین الاقوامی موٹے اناج کے سال کے طور پر منایا گیا۔
مودی نے کہا کہ قدرتی کاشت کاری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ ملک میں قدرتی کاشت کاری کے 24,000 کلسٹر قائم کیے جاچکے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق تقریباً 3,000 اقسام کی فصلیں تیار کی گئی ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں بہت گھنے جنگلات کے رقبے میں 22 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت کروڑوں پودے لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی ہے اور ’کم استعمال، دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ‘ کے اصول کے ساتھ سرکلر اکانومی(مدور معیشت) کو فروغ دیا ہے۔ گووردھن یوجنا کے ذریعے گاوں میں گوبر اور دیگر نامیاتی کچرے کو مفید وسائل میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافتی سوچ میں زمین کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہندوستان ذمہ دار اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں ہونے والی بحث سے سامنے آنے والے نئے خیالات اور حل آنے والی نسلوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔
پروگرام میں ہندوستان کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت، مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو، اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی اور این جی ٹی کے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو سمیت دیگر معززین موجود تھے۔ دو روزہ کانفرنس میں ماحولیاتی ماہرین، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں، ضلعی ججوں، مختلف وزارتوں کے سکریٹریوں، سینئر افسران اور 17 ممالک کے عدالتی نمائندوں نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد