ایشیائی کھیل: غیر ملکی تجربے کے بل پر تمغوں کی خشک سالی ختم کرنے کے ارادے سے اترے گی ہندوستانی سافٹ ٹینس ٹیم
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ گزشتہ پانچ، چھ ماہ کے دوران بین الاقوامی مقابلوں اور جاپان و کوریا میں تربیت سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر ہندوستان کے سافٹ ٹینس کھلاڑی جے مینا اور آدھیہ تیواری آئندہ ایشیائی کھیلوں میں تمغہ جیتنے کے ہدف کے ساتھ می
ایشیائی کھیل: غیر ملکی تجربے کے بل پر تمغوں کی خشک سالی ختم کرنے کے ارادے سے اترے گی ہندوستانی سافٹ ٹینس ٹیم


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔

گزشتہ پانچ، چھ ماہ کے دوران بین الاقوامی مقابلوں اور جاپان و کوریا میں تربیت سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر ہندوستان کے سافٹ ٹینس کھلاڑی جے مینا اور آدھیہ تیواری آئندہ ایشیائی کھیلوں میں تمغہ جیتنے کے ہدف کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ دونوں کھلاڑیوں کا یہ تیسرا ایشیائی کھیل ہے۔ جے اور آدھیاکی جوڑی نے 2024 کی عالمی سافٹ ٹینس چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز میں کانسے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔

چھ رکنی ہندوستانی سافٹ ٹینس ٹیم کی قیادت جے اور آدھیا کر رہے ہیں۔ جے مردوں کے سنگلز، مردوں کی ٹیم اور مکسڈ ڈبلز میں حصہ لیں گے، جبکہ آدھیا خواتین کے سنگلز اور مکسڈ ڈبلز میں چیلنج پیش کریں گی۔ ٹیم کے دیگر ارکان میں یوگیش چودھری، اوم یادو، انیکیت چراغ پٹیل اور آرین ٹھاکر شامل ہیں۔ ٹیم کے ساتھ کوچ دیوانشی ہریش بھائی پٹیل اور فزیوتھراپسٹ اتسو کمار دوبے بھی موجود ہیں۔

ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں میں مردوں کی ٹیم کے مقابلے کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا اور کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ ہندوستان نے گروپ سی کے پہلے مقابلے میں لاو¿س کو 3-0 سے شکست دی، لیکن دوسرے میچ میں چینی تائپے کے خلاف 0-3 سے ہار گیا۔ اس کے بعد ہندوستان نے منگولیا کو 3-0 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں داخلہ حاصل کیا، جس کا مقابلہ ہفتہ کو ہوگا۔

کرکٹر بننا چاہتے تھے جے مینا

مدھیہ پردیش کے دیواس سے تعلق رکھنے والے جے مینا کی سافٹ ٹینس میں آمد محض اتفاق سے ہوئی۔ بچپن میں ان کی دلچسپی کرکٹ میں تھی اور وہ کرکٹر بننا چاہتے تھے۔ اسکول کے قریب سافٹ ٹینس کورٹ پر کچھ لڑکوں کو کھیلتے دیکھ کر ان کی اس کھیل میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ 14 سال کی عمر تک وہ بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے لگے تھے۔

جے نے 2018 کے جکارتہ-پالم بنگ ایشیائی کھیلوں میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے گجرات میں منعقدہ 36ویں قومی کھیلوں میں مردوں کے سنگلز کا طلائی تمغہ جیتا۔ 2024 میں آدھیا تیواری کے ساتھ جوڑی بنا کر انہوں نے عالمی سافٹ ٹینس چیمپئن شپ میں مکسڈ ڈبلز کا کانسے کا تمغہ جیتا اور ہندوستان کے لیے اس مقابلے میں پہلا تمغہ حاصل کیا۔

جے نے 2025 میں قومی چیمپئن کا خطاب جیتا اور اسی سال ایشیائی سافٹ ٹینس چیمپئن شپ میں مردوں کے سنگلز کا کانسے کا تمغہ جیت کر براعظمی سطح پر تمغہ جیتنے والے پہلے ہندوستانی بنے۔ حال ہی میں انہوں نے 2026 کے سونچانگ اوپن میں بھی مردوں کے سنگلز کا کانسے کا تمغہ جیتا۔

مسلسل اچھی کارکردگی کے بعد ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی نے گزشتہ سال جے کو ٹارگٹ ایشین گیمز گروپ اسکیم میں شامل کیا۔ اس کے تحت انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت اور جموں و احمد آباد میں قومی تربیتی کیمپوں کے لیے مالی امداد فراہم کی گئی۔

جے نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے سے انہیں اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو حریفوں پر برتری حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے سائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”2018 میں میں نے جکارتہ میں اپنے پہلے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا تھا۔ یہ میری زندگی کا بالکل مختلف تجربہ تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایشیائی کھیلوں کی کیا اہمیت ہے۔ یہ میرا تیسرا ایشیائی کھیل ہے۔ چین میں منعقدہ ہانگژو ایشیائی کھیلوں کے دوران بھی میں مردوں کے سنگلز کے کوارٹر فائنل تک پہنچا تھا، جہاں مجھے انتہائی قریبی مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔“

جے نے کہا، ”اس بار ہندوستانی فیڈریشن اور حکومت نے کھلاڑیوں کے لیے بہت محنت کی ہے۔ میں کھیلوں کی وزارت اور اپنی حکومت کا غیر معمولی تعاون کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے بین الاقوامی کیمپ منعقد ہوئے اور ہم نے چار، پانچ ماہ ملک سے باہر رہ کر کوریا اور جاپان میں مقابلوں میں حصہ لیا۔“

انہوں نے کہا، ”میں ٹارگٹ ایشین گیمز گروپ اسکیم کا حصہ ہوں۔ مجھے ریکیٹ اور گیند جیسے سازوسامان مفت فراہم کیے گئے، جو عام طور پر درآمد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوتے، اسپورٹس کٹ اور ٹریک سوٹ بھی دیے گئے۔ کوریا اور جاپان میں کھیلنے سے میرا اعتماد بڑھا ہے۔ دونوں ممالک میں پورے سال لیگ اور ٹورنامنٹس منعقد ہوتے ہیں، جس سے کھلاڑی مسلسل اپنی فارم میں رہتے ہیں۔

15 سال کی عمر میں ایشیائی کھیلوں میں اتری تھیں آدھیا

مدھیہ پردیش کے چھوٹے شہر ہوشنگ آباد سے تعلق رکھنے والی آدھیا تیواری نے تین سال کی عمر سے ٹینس کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے والد رنجی ٹرافی کے کرکٹر رہ چکے ہیں۔ ابتدا میں ٹینس کی باریکیاں سکھانے کے لیے کوچ دستیاب نہیں تھے، اس لیے انہیں خود ہی سیکھنا پڑا۔

آدھیا نے کہا، ”میں نے ٹینس خود سیکھی۔ اس کے بعد میں لان ٹینس کھیل رہی تھی اور ایشیا میں چھٹی سیڈ پر تھی۔ میں نے 2013 تک لان ٹینس میں کافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد میں ایک ٹورنامنٹ میں گئی، جہاں مدھیہ پردیش کے سافٹ ٹینس سکریٹری نے مجھ سے پوچھا کہ میں سافٹ ٹینس کیوں نہیں آزماتیں۔ میں نے سوچا کہ ایک بار کوشش کرتی ہوں۔“

انہوں نے کہا، ”اپنے پہلے ہی ٹورنامنٹ میں میں نے دو کانسے اور ایک چاندی کے تمغے جیتے۔ اس کے بعد میرا نام جونیئر عالمی چیمپئن شپ اور سینئر عالمی چیمپئن شپ کے لیے منتخب ہوا۔ تب سے میں سافٹ ٹینس کھیل رہی ہوں، کیونکہ لان ٹینس میں کافی خرچ ہوتا تھا۔“

ٹارگٹ ایشین گیمز گروپ اسکیم میں شامل آدھیا نے بھی ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی کے بین الاقوامی تربیتی کیمپوں سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا، ”میں ٹارگٹ ایشین گیمز گروپ اسکیم کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔ ہمیں جو کیمپ فراہم کیے گئے، ان سے ہمارے کھیل کو فروغ دینے اور اس میں بہتری لانے میں کافی مدد ملی۔ ہندوستانی اسپورٹس اتھارٹی نے ہماری بہت مدد کی۔ کیمپوں میں تربیت، بنیادی ڈھانچہ، سازوسامان اور یہاں تک کہ ریکیٹ بھی فراہم کیے گئے۔ اس بار تربیت بہت اچھی رہی۔“

انہوں نے کہا، ”کوریا میں بھی ایک ماہ کا مکمل تربیتی کیمپ منعقد ہوا اور جاپان میں ایشیائی کھیلوں سے قبل 20 روزہ کیمپ لگایا گیا۔ فی الحال میں صرف اتنا کہوں گی کہ تمغہ جیتنے کے کافی امکانات ہیں۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande