
کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔
ہاوڑہ ضلع کے باگنان کے چندر بھاگ گاو¿ں کی رہنے والی نوجوان خاتون سارنی چٹرجی نے اپنی محنت اور حوصلے کے بل پر ایک مثال قائم کی ہے۔ صبح سے اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنے کے بعد گھر سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور واقع ایک نجی الیکٹرانکس مال میں رات آٹھ بجے تک ڈیوٹی انجام دینے والی سارنی ملازمت ختم ہونے کے بعد براہِ راست جم پہنچتی ہیں۔
ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد سارنی باقاعدگی سے باگنان کے ایک جم سینٹر میں تربیت حاصل کرتی ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعہ کی صبح انہوں نے 150 کلوگرام وزن اٹھا کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
مسلسل مشق اور سخت محنت کے بعد وہ جمعرات کو کولکاتا میں منعقدہ ایک مقابلے میں پاور لفٹنگ کے خواتین کے زمرے میں طلائی تمغہ جیت چکی ہیں۔
سارنی کی اس کامیابی پر ہاوڑہ ضلع کے باگنان کے لوگ انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ ان کے والد، مرحوم رقص کے فن کار سومتر چٹرجی نے بچپن ہی سے اپنی بیٹی کو کبھی ہار نہ ماننے کا جذبہ سکھایا تھا۔ گھر میں طویل عرصے سے پیروں کی تکلیف سے دوچار والدہ کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر ہے اور سارنی اپنے بچے کی پرورش کے ساتھ ساتھ خاندان کو سنبھال رہی ہیں۔ روزی روٹی کے لیے انہوں نے ایک الیکٹرانکس مال میں سیلز کی ملازمت اختیار کی ہے۔
سارنی کے کوچ مرشد میر ابتدا ہی سے انہیں مسلسل تعاون اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ وہ سارنی کی تربیت، جسمانی صلاحیت اور دیگر ضروریات پر مسلسل نظر رکھتے ہیں، تاکہ کسی بھی پریشانی کا اثر ان کی تیاری پر نہ پڑے۔
قومی شاہراہ نمبر 16 سے کولکاتا کی جانب باگنان لائبریری موڑ کی لنک روڈ کے کنارے واقع جم میں سارنی نے اپنی محنت کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا ہے۔ علاقے کے لوگ اب انہیں پیار سے ”لیڈی ہرکیولس“ کہہ کر مبارک باد دے رہے ہیں۔
کوچ مرشد میر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے آئندہ مالی تعاون ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ پ±رامید ہیں۔ فی الحال سارنی کے سامنے بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کا ہدف ہے اور انہوں نے اپنی تیاری کا مرکز اسی مقصد کو بنا لیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ