اپانا لاجسٹکس نے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا، شیئربازار میں ہوئی فلیٹ لسٹنگ
نئی دہلی، 15 ستمبر(ہ س)۔ کنٹینر ہینڈلنگ اور ٹرانسپورٹیشن کمپنی اپانا لاجسٹکس کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں فلیٹ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 60 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای کے
شیئربازار


نئی دہلی، 15 ستمبر(ہ س)۔ کنٹینر ہینڈلنگ اور ٹرانسپورٹیشن کمپنی اپانا لاجسٹکس کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں فلیٹ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 60 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ بغیر کسی اتار چڑھاو¿ کے 60 روپے کی سطح پر تھی۔ فلیٹ لسٹنگ کے بعد سے ابھی تک اس کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ دوپہر 12 بج کر 30 منٹ تک ٹریڈنگ کے بعد بھی کمپنی کے حصص 60 روپے کی سطح پر رہے۔ اس طرح، کاروبار میں اب تک، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کار نہ تو نقصان میں ہیں اور نہ ہی منافع میں۔

اپانا لاجسٹکس کا 34.14 کروڑ روپے کا آئی پی او 7 اور 9 ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 1.26 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو صرف 0.28 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 2.23 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے کل 56.90 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کمپنی کے ذریعے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اپانا لاجسٹکس کی مالی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاو¿ کے باوجود اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال2023تا2024 میں کمپنی کا خالص منافع 3 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 3.11 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع 5.86 کروڑ روپے تھا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 20.33 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 21.61 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران پچھلے مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کو 31.07 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

اس دوران کمپنی کا قرض مسلسل کم ہوا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 9.26 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 8 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی پر قرض کا بوجھ مزید کم ہو کر 6.30 کروڑ روپے رہ گیا۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میںکمپنی کی مجموعی مالیت 11.87 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024تا2025میں بڑھ کر 14.41 کروڑ روپے ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں مجموعی مالیت بڑھ کر 20.27 کروڑ روپے ہو گئی۔

کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو کمپنی کو اس عرصے میں اس محاذ پر اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 9.90 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح، کمپنی کے رزرو اور سرپلس 2024تا2025 تیزی سے کم ہو کر 2.59 کروڑ روپے رہ گئے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس تیزی سے بڑھ کر 8.45 کروڑ روپے ہو گئے۔ا

سی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024 میں 4.63 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025میںبڑھ کر 6.15 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں بڑھ کر 11.32 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande