لیب گرون ڈائمنڈ کی مکمل ویلیو چین بھارت میں قائم کی جائے: امت شاہ
نیا ممبئی جیمز اینڈ جیولری پارک سے 1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 50000 روزگار متوقعممبئی ، 13 ستمبر (ہ س) مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا ہے کہ لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے ہیروں یعنی لیب گرون ڈائمنڈ کی تیاری کے لیے درکار مشینری
Global Lab Grown Diamond Value Chain Says Amit Shah


Global Lab Grown Diamond Value Chain Says Amit Shah


نیا ممبئی جیمز اینڈ جیولری پارک سے 1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 50000 روزگار متوقعممبئی ، 13 ستمبر (ہ س) مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا ہے کہ لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے ہیروں یعنی لیب گرون ڈائمنڈ کی تیاری کے لیے درکار مشینری سے لے کر زیورات کی تیاری، برانڈنگ، شوروم اور عالمی سطح پر فروخت کے انتظام تک پوری ویلیو چین بھارت میں قائم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ابھرتے ہوئے شعبے میں بھارتی صنعت کو عالمی قیادت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ممبئی میں بھارت کے رتن اور زیورات کے شعبے میں بہترین کارکردگی، قیادت اور نمایاں خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے 52 ویں انڈیا جیمز اینڈ جیولری ایوارڈز 2026 کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بھارت کے پاس بنیادی ڈھانچے، توانائی، سرمایہ اور کاروباری طبقے کی صلاحیت موجود ہے۔ آنے والے برسوں میں لیب گرون ڈائمنڈ کی عالمی منڈی کے بڑے پیمانے پر وسعت پانے کا امکان ہے، اس لیے بھارتی صنعت کو اس شعبے کے مواقع کو بروئے کار لاتے ہوئے صرف کام کی رفتار ہی نہیں بلکہ کاروبار کا دائرہ بھی وسیع کرنا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی کمپنیوں سے عالمی برانڈ تیار کرنے اور دنیا کے بڑے شہروں میں اپنے فروخت مراکز قائم کرنے کی اپیل کی۔ امیت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں ضروری تمام تعاون فراہم کرے گی۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ رتن اور زیورات کی صنعت کے لیے نیا ممبئی میں بڑی جگہ اور ضروری ایف ایس آئی دستیاب کرانے کے حوالے سے ریاستی حکومت نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر سے اس صنعت کو باہر جانے سے روکنے کے لیے ریاستی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی، ثقافتی امور کے وزیر آشییش شیلار، مارکیٹنگ کے وزیر جے کمار راول، رکن پارلیمنٹ گووند ڈھولکیا، رکن اسمبلی امیت ساٹم اور کونسل کے صدر کیرت بھنسالی سمیت رتن و زیورات کے شعبے سے وابستہ صنعت کار، برآمد کنندگان، مصنوعات تیار کرنے والے، بینکرز، خواتین کاروباری شخصیات اور مختلف اداروں کے نمائندے موجود تھے۔

امیت شاہ نے بھارت کی قدیم رتن اور زیورات کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی رتن اور زیورات ہزاروں برس سے دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 6000 سال پہلے سے بھارت سے رتن اور زیورات کی تجارت ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرون وسطیٰ کے دور میں شاہی سرپرستی کی وجہ سے جواہرات اور زیورات کے فن کو نئی بلندی حاصل ہوئی اور کندن اور میناکاری جیسی فنون نے ترقی کی۔ آج بھی جے پور رنگین رتنوں کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ دنیا بھر میں تراشے جانے والے ہر 10 ہیروں میں سے 9 پر سورت میں کام کیا جاتا ہے۔ سورت کی ہیروں کی صنعت نے لاکھوں لوگوں کو روزگار اور خود انحصاری فراہم کی ہے اور ملک کی معیشت اور برآمدات میں بڑا حصہ ڈالا ہے۔ ممبئی نے بھی تن اور زیورات کی تجارت کو برآمدات کا ایک اہم مرکز بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ڈائمنڈ بورس بھارتی تن اور زیورات کی صنعت کی عالمی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔

بھارت کی رتن اور زیورات کی برآمد 2 لاکھ 44 ہزار کروڑ روپے تک پہنچی: امیت شاہ نے بتایا کہ 2025 میں بھارت کی رتن اور زیورات کی برآمد 2 لاکھ 44 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ملک کی مجموعی تجارتی اشیا کی برآمدات میں اس شعبے کا حصہ 6.3 فیصد ہے۔ اس صنعت سے تقریباً 75 لاکھ افراد کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار حاصل ہے۔ امریکہ، مشرق وسطیٰ، ہانگ کانگ اور یورپ کے لیے بھارت زیورات کا ایک اہم سپلائر بن چکا ہے۔ بھارت دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ کٹے اور پالش کیے گئے ہیروں پر پروسیسنگ کرتا ہے۔ امیت شاہ نے اسے بھارتی صنعت کاروں کی ہمت، مہارت اور صلاحیت کی بہترین مثال قرار دیا۔

انہوں نے صنعت سے یورپی یونین، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، عمان اور برطانیہ کے ساتھ ہوئے آزاد تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی منڈیوں اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کی اپیل کی۔ امیت شاہ نے کہا کہ خصوصی طور پر نوٹیفائیڈ علاقوں میں خام ہیروں کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کو آمدنی پر ٹیکس میں طویل مدتی رعایت دینے کے فیصلے سے بھارت کو دنیا کا خام ہیروں کی تجارت کا مرکز بنانے کی سمت میں اہم شروعات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، پیداوار کو فروغ دینے والی اسکیموں اور برآمدات میں اضافے کے لیے دستیاب سہولیات کی وجہ سے بھارت تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ 2047 تک بھارت کو ہر شعبے میں دنیا کا ایک سرکردہ ملک بنانے کے عزم میں تن اور زیورات کی صنعت کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

نیا ممبئی جیمز اینڈ جیولری پارک سے 1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 50000 روزگار متوقع : وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ملک کی برآمدات اور معاشی ترقی میں رتن اور زیورات کی صنعت کا اہم کردار ہے۔ ریاستی حکومت اس صنعت کو بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر رابطہ نظام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا ممبئی میں قائم کیے جانے والے جدید جیمز اینڈ جیولری پارک سے تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے اور اس سے 50000 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کی تن اور زیورات کی برآمدات میں ممبئی اور مہاراشٹر کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ بھارت ڈائمنڈ بورس کی جانب سے تیار کی گئی مضبوط صنعتی ماحولیات نے اس شعبے کی ترقی کو بڑی رفتار دی ہے۔ یہاں روزانہ تقریباً 30000 سے 35000 تاجر، کاریگر اور ملازمین ایک خاندان کی طرح کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی محنت کے نتیجے میں اس شعبے کی تجارت 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

مہاراشٹر کا الگ تن اور زیورات پالیسی : وزیر اعلیٰ فڑنویس نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے 2025 میں رتن اور زیورات کے شعبے کے لیے نئی پالیسی تیار کی ہے۔ اس پالیسی میں روایتی کاروبار کے ساتھ لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے ہیروں یعنی لیب گرون ڈائمنڈ کی صنعت کے لیے بھی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صنعت ٹیکس اور غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کرنے کے ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرتی ہے، اس لیے ریاستی حکومت اسے تمام ضروری تعاون فراہم کرے گی۔نیا ممبئی میں مجوزہ جیمز اینڈ جیولری پارک کے لیے ریاستی حکومت نے زمین دستیاب کرائی ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کا کام دسہرہ سے شروع ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہاں ملک کا سب سے جدید رتن اور زیورات کا صنعتی ماحول قائم کیا جائے گا، جس سے مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کو بھی بڑا فائدہ پہنچے گا۔

بھارت ڈائمنڈ بورس کو بہتر اور بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کرنے کی تیاری : وزیر اعلیٰ فڑنویس نے بتایا کہ بھارت ڈائمنڈ بورس کے علاقے میں آنے والے دنوں میں تعمیرات، صنعت اور روزگار میں اضافہ متوقع ہے، اس لیے نقل و حمل کے نظام پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو اسٹیشن سے بھارت ڈائمنڈ بورس تک براہ راست رسائی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ باندرا اور کرلا ریلوے اسٹیشنوں سے پوڈ ٹیکسی سروس شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے ملازمین اور کاریگروں کا سفر زیادہ آسان ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ بلٹ ٹرین اسٹیشن کو کوسٹل روڈ، باندرا ورلی سی لنک، چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل دو، کرلا علاقے اور شمالی کوسٹل روڈ سے جوڑنے کے لیے سرنگیں تعمیر کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ریلوے، میٹرو، سڑک اور ہوائی اڈے سمیت تمام اہم ذرائع آمدورفت کے ساتھ بھارت ڈائمنڈ بورس کو بلا رکاوٹ مربوط کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بننے والے نئے بھارت میں جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے صنعتوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات تیار کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی رتن اور زیورات کی صنعت کو ضروری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ملک کی معاشی ترقی میں رتن اور زیورات کی صنعت کا اہم کردار ایکناتھ شندے: نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ بھارت کی تن اور زیورات کی برآمدات میں مہاراشٹر کا حصہ تقریباً 50 فیصد ہے اور اس صنعت نے ملک کی معاشی ترقی کی رفتار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس صنعت کے ذریعے 50 لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں جبکہ اس شعبے میں تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وکست بھارت 2047 کی سمت میں اہم پیش رفت شروع کی ہے۔ بھارت کی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے بعد بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں رتن اور زیورات کی صنعت کا کردار اہم رہے گا۔

انڈیا جیمز اینڈ جیولری ایوارڈز میں 27 شعبوں میں اعزازات : جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل کی جانب سے منعقدہ 52 ویں انڈیا جیمز اینڈ جیولری ایوارڈز میں 27 مختلف شعبے شامل کیے گئے تھے۔ یہ کونسل بھارت کی رن اور زیورات کی صنعت کی اعلیٰ ترین تنظیم ہے، جسے 1966 میں حکومت ہند کی وزارت تجارت نے قائم کیا تھا۔ اس ادارے کے 10700 سے زیادہ ارکان ہیں اور 1998 سے یہ خود مختار ادارے کے طور پر کام کررہا ہے۔ اس سال دیے گئے اعزازات میں سب سے زیادہ کاروباری حجم، سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والی کمپنی، سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی کمپنی، کٹ اینڈ پالشڈ ڈائمنڈز، قیمتی دھاتوں کے سادہ اور جڑے ہوئے زیورات، چاندی کے زیورات، رنگین رتن، ملبوساتی اور فیشن زیورات، مصنوعی پتھر اور لیب گرون ڈائمنڈز سمیت مختلف شعبے شامل تھے۔

قومی سطح کے اس 52 ویں ایوارڈز پروگرام میں برآمد کنندگان، مصنوعات تیار کرنے والوں، بینکرز، خواتین کاروباری شخصیات اور صنعت کے نظام کو مؤثر انداز میں چلانے والے افراد کا بھی اعزاز کیا گیا۔اس کے علاوہ سماجی طور پر سب سے زیادہ ذمہ دار کمپنی، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری، بہترین اختراعی مارکیٹنگ اور برانڈنگ مہم، بیرون ملک رتن اور زیورات کی فروخت، خواتین کاروباری شخصیات، صنعت کو مالی مدد فراہم کرنے والے بہترین بینک، خصوصی اعزاز، لائف ٹائم اچیومنٹ اور ملازمین کے اعزازات سمیت مختلف شعبوں میں بھی ایوارڈز دیے گئے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande