دو سال بعد میدان میں واپس لوٹیں گے نوین الحق، چوٹ اور بحالی کے دنوں کو یاد کیا
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ افغانستان کے تیز گیند باز نوین الحق تقریباً دو سال بعد ایک بار پھر اپنی قومی ٹیم کی جرسی میں نظر آنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ بھارت کے خلاف ہونے والی ٹی-20 بین الاقوامی سیریز کے لیے وہ ٹیم کا حصہ ہیں۔ مسلسل چوٹوں کے باعث
نوین


نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ افغانستان کے تیز گیند باز نوین الحق تقریباً دو سال بعد ایک بار پھر اپنی قومی ٹیم کی جرسی میں نظر آنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ بھارت کے خلاف ہونے والی ٹی-20 بین الاقوامی سیریز کے لیے وہ ٹیم کا حصہ ہیں۔ مسلسل چوٹوں کے باعث تقریباً دو سال تک کرکٹ سے دور رہنے کے بعد نوین اب میدان میں اترنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور فٹ محسوس کر رہے ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق، کرک انفو سے اپنی چوٹ اور بحالی کے مشکل دنوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نوین نے کہا کہ بحالی کا وقت بہت تنہائی بھرا اور ذہنی طور پر مشکل ہوتا ہے۔ میرے کندھے کا اسٹریس فریکچر تو 8 سے 10 ہفتوں میں ٹھیک ہو گیا تھا، لیکن اس کے بعد مجھے لیبرم کی رپیئر کے لیے دوسری سرجری کرانی پڑی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ میں بحالی کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران میری حالت ایسی تھی کہ مجھے بیٹھ کر ہی سونا پڑتا تھا۔

نوین کو اسی سال ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا، لیکن دائیں کندھے میں اسٹریس فریکچر کے باعث وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ 26 سالہ نوین الحق کو ڈیتھ اوورز (آخری اوورز) کا ماہر مانا جاتا ہے۔ 2024 کے ٹی-20 ورلڈ کپ میں افغانستان کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں 12.30 کی اوسط اور 6.00 کی اکانومی ریٹ سے 13 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

چوٹ کے باعث باہر رہنے کے دوران احمد آباد میں جنوبی افریقہ کے خلاف افغانستان کے ”ڈبل سپر اوور“ والے میچ کو دیکھنے کے تجربے کے بارے میں انہوں نے کہا، ”وہ میچ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں وہاں ٹیم کے لیے موجود ہوتا تو شاید ڈیتھ اوورز میں کچھ مختلف کر سکتا تھا۔“

نوین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ افغان ٹیم کے کھلاڑی 2018 کے انڈر-19 دور سے ایک ساتھ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اس نسل میں آپ کو 9 یا 10 ایسے کھلاڑی نظر آئیں گے جو 2018 سے ایک ساتھ ہیں۔ رحمان اللہ گرباز، عظمت اللہ عمرزئی اور مجیب الرحمٰن جیسے کھلاڑی میرے اسی دور کے ساتھی ہیں۔“

26 سال کی عمر میں مکمل طور پر فٹ ہو کر واپس لوٹنے والے نوین اب زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ایک تیز گیند باز کا معمول کافی مشکل ہوتا ہے، لیکن ہمیں جتنا ممکن ہو اتنا کرکٹ کھیلنا چاہیے۔ ایک دن یہ سب ختم ہو جائے گا اور ہم بحیثیت کرکٹر میدان کے اس دباو¿ اور ماحول کو بہت یاد کریں گے۔“

بھارت اور افغانستان کے درمیان تین میچوں کی ٹی-20 سیریز آج سے شروع ہو رہی ہے۔ پہلا میچ آج شام ساڑھے سات بجے کھیلا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande