پکنک  کے دوران دریا میں بہہ جانے والے تینوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد، واقعے کے بعد علاقے میں بیریکیڈنگ کی تیاری
جاںجگیر-چامپا، 13 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کے دیوری سیاحتی مقام میں ہسدیو ندی کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے والے تینوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ تینوں لاشوں کو بلو دا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی
TWO CHILDREN DROWNED IN RIVER


جاںجگیر-چامپا، 13 ستمبر (ہ س)۔ ضلع کے دیوری سیاحتی مقام میں ہسدیو ندی کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے والے تینوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ تینوں لاشوں کو بلو دا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔ وہیں پولیس نے مزید کارروائی شروع کردی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ بلو دا تھانہ علاقے کا ہے۔ بلاسپور کے چوکسے کالج کے بی فارما فرسٹ ایئر کی 4 طالبات اور 4 طلبہ جمعہ کو پکنک منانے دیوری گاؤں آئے تھے۔ پون لال، سچن سنگھ اور مراری ساہو سیلفی لینے کے لیے دریا کے کنارے کھڑے تھے۔ اسی دوران ایک طالب علم کا پاؤں پھسل گیا اور وہ دریا میں بہنے لگا۔ اسے بچانے کے لیے پانی میں اترنے والے اس کے دو دوست بھی بہہ گئے۔

اطلاع ملنے پر بلو دا تھانہ انچارج منوہر سنہا پولیس ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ موقع پر ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کو طلب کیا گیا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ ہفتہ کو پون کی لاش برآمد کرلی گئی تھی، جبکہ اتوار کی صبح ایس ڈی آر ایف اور ڈی ڈی آر ایف کی ٹیم نے مزید دو لاشیں دریا سے باہر نکال لیں۔

اطلاعات کے مطابق امبیکاپور کے رہنے والے سچن سنگھ کی لاش آج صبح تقریباً 6:15 بجے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد مراری ساہو کی لاش تقریباً 7 بجے ملی۔ بتایا جارہا ہے کہ مراری ساہو کی لاش جائے وقوعہ پر پتھروں کے درمیان بنی ایک کھوہ میں پھنسی ہوئی تھی۔ ایس ڈی آر ایف اور ڈی ڈی آر ایف کی ٹیم نے کافی مشقت کے بعد لاش کو باہر نکالا۔

تینوں لاشوں کو بلو دا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔ حادثے کے بعد اب انتظامیہ دیوریسیاحتی مقام پر سکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے کی تیاری میں ہے۔

ایس ڈی ایم نے یہاں تک پہنچنے والے راستے پر بیریکیڈ لگانے اور ممنوعہ علاقے میں داخلے کو روکنے کے لیے انتباہی پوسٹر لگانے کی ہدایات دی ہیں۔ انتظامیہ کا مقصد ایسے حادثات کے تسلسل کو روکنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande