
نیویارک، 12 ستمبر (ہ س): ۔
دنیا کی نمبر دو کھلاڑی قزاقستان کی ایلینا ریباکینا بخوبی جانتی ہیں کہ اگر انہیں عالمی نمبر ایک بیلاروس کی آرینا سبالینکا کو مسلسل تیسری مرتبہ یو ایس اوپن کا خطاب جیتنے سے روکنا ہے تو انہیں کس حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ اسی لیے وہ جارحانہ کھیل کے ساتھ ریلیز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور سبالینکا کو پوائنٹس پر حاوی ہونے سے روکنے کی کوشش کریں گی۔
یو ایس اوپن 2026 خواتین سنگلز کے فائنل میں ٹاپ سیڈ اور دو مرتبہ کی دفاعی چیمپئن سبالینکا کا سامنا کرنے سے قبل ریباکینا نے ایک انٹرویو میں کہا، ”میرے خیال میں اسی جذبے کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس دن میں جیسا بھی محسوس کروں، مجھے مقابلہ کرنا ہوگا اور اپنی بہترین کارکردگی دکھانی ہوگی۔ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی ہیں اور کئی مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکی ہیں۔ اہم مواقع پر میں جارحانہ رہنے کی کوشش کروں گی، انہیں پوائنٹس پر کنٹرول حاصل کرنے کا موقع نہیں دوں گی اور ریلیوںمیں خود کو حاوی رکھنے کی کوشش کروں گی۔“
آرتھر ایش اسٹیڈیم میں دونوں کے درمیان فائنل مقابلہ اتوار، 13 ستمبر کو بھارتی وقت کے مطابق رات 1:30 بجے کھیلا جائے گا۔ مقابلے کی براہِ راست نشریات جیو ہاٹ اسٹار اور اسٹار اسپورٹس پر ہوں گی۔ یہ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 18واں مقابلہ ہوگا۔ باہمی مقابلوں میں سبالینکا کو اس وقت 10-7 کی برتری حاصل ہے۔ یہ 13 سال میں پہلا موقع ہوگا جب یو ایس اوپن خواتین سنگلز کے فائنل میں ٹاپ دو سیڈ کھلاڑی آمنے سامنے ہوں گی۔
سبالینکا کی نظریں اپنے کیریئر کے پانچویں گرینڈ سلیم خطاب اور مسلسل تیسرے یو ایس اوپن ٹائٹل پر ہیں۔ دوسری جانب ریباکینا نے 2023 کی یو ایس اوپن چیمپئن کوکو گاف کو سیمی فائنل میں 3-6، 6-4، 6-4 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
تاہم، ریباکینا کا فائنل تک کا سفر آسان نہیں رہا۔ 27 سالہ کھلاڑی نے بتایا کہ پیروں میں تکلیف کے باعث انہیں نیویارک میں ٹورنامنٹ کھیل پانے کا بھی مکمل یقین نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ”مجھے سو فیصد یقین نہیں تھا کہ میں یہ ٹورنامنٹ کھیل بھی پاو¿ں گی یا نہیں۔ ابتدائی چند میچوں میں میری توجہ اپنے پیر اور اس بات پر تھی کہ وہ کس طرح ردعمل ظاہر کرے گی۔ ابتدائی مقابلوں میں میں خود کو پ±رسکون محسوس نہیں کر رہی تھی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ میری توجہ اس بات پر مرکوز ہوئی کہ کورٹ پر مجھ سے کیا غلطیاں ہو رہی ہیں اور مجھے کن چیزوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ میں نے اپنی تال دوبارہ حاصل کر لی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”کچھ انتہائی مشکل حریفوں اور شاندار مقابلوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مجھے لگتا ہے کہ کچھ چیزیں یقینی طور پر میرے حق میں جا رہی ہیں اور امید ہے کہ فائنل کے دن میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کر سکوں گی اور یہ میرے لیے کامیابی کا باعث بنے گی۔“
ٹورنامنٹ کے آخری مرحلے میں ریباکینا کی ذہنی اور جسمانی مضبوطی بھی نمایاں طور پر دیکھنے کو ملی۔ انہیں کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل، دونوں میں تین سیٹ تک جدوجہد کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا، ”میچ کے دوران میں خود سے کہہ رہی تھی کہ ٹورنامنٹ سے پہلے میں نے ایک ہفتے تک پریکٹس نہیں کی تھی۔ میں خود کو سمجھا رہی تھی کہ میں تھکی ہوئی نہیں ہوں اور اب بھی مقابلہ کر سکتی ہوں۔ سچ کہوں تو میں ہر پوائنٹ کے لیے لڑ رہی تھی، کیونکہ دونوں مقابلے انتہائی سخت اور قریبی تھے۔“
دوسری جانب سبالینکا نے سیمی فائنل میں جیسیکا پیگولا کو 7-5، 6-2 سے شکست دے کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مسلسل چوتھی مرتبہ نیویارک کے فائنل میں جگہ بنائی۔ وہ 2011 سے 2014 کے درمیان سرینا ولیمز کے بعد مسلسل چار یو ایس اوپن فائنل کھیلنے والی پہلی کھلاڑی بن گئی ہیں۔
فائنل میں سبالینکا تاریخ رقم کرنے کے ارادے سے میدان میں اتریں گی، جبکہ ریباکینا اپنے آسٹریلین اوپن خطاب کے بعد یو ایس اوپن ٹرافی جیت کر عالمی رینکنگ میں سرفہرست مقام حاصل کرنے کی جانب ایک اور بڑا قدم بڑھانا چاہیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ