
کٹھمنڈو، 12 ستمبر (ہ س)۔ نیپال میں سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے والے 216 میگاواٹ کے بالائی تریشولی-1 پن بجلی پلانٹ میں 17 روز کی مسلسل کوششوں کے بعد سات افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ سرنگ اور ہیڈ ورکس کے علاقے میں لاپتہ افراد کی تلاش کے دوران جمعہ کی دیر رات یہ لاشیں ملیں۔ اس کی اطلاع آزاد توانائی پیدا کرنے والوں کی تنظیم، نیپال (آئی پی پی اے این) نے دی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سے منصوبے میں بڑی تعداد میں ملازمین اور مزدور لاپتہ ہیں۔ جمعہ کو نیپالی فوج اور پلانٹ میں کام انجام دینے والی کمپنی نیپال واٹر اینڈ انرجی ڈیولپمنٹ کمپنی کے سروے انجینئروں سمیت ایک مشترکہ ٹیم نے آڈٹ-1 علاقے کا معائنہ کیا۔ جانچ کے دوران سرنگ کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر ملبے سے بھرا ہوا پایا گیا، جس کی وجہ سے اندر پھنسے لوگوں تک پہنچنا انتہائی مشکل بنا ہوا ہے۔
دوسری جانب، میلونگ کیمپ سائٹ پر منی اسکیویٹر کی مدد سے کھدائی اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وہیں آڈٹ-3 علاقے میں نیپالی فوج اور آسٹریلوی ریسکیو ٹیم نے بھی سرچ آپریشن چلایا۔ منصوبہ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہفتہ سے لاپتہ افراد کی تلاش اور بچاؤ مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔
سیلاب آنے سے قبل منصوبے کے مقام پر مجموعی طور پر 1,433 افراد کام کر رہے تھے۔ ان میں سے اب تک 878 افراد کو بحفاظت باہر نکالا جا چکا ہے، جبکہ 595 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سات لاشوں کی برآمدگی کے بعد منصوبے میں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
امدادی ٹیمیں فی الحال سرنگوں، ہیڈ ورکس اور کیمپ سائٹ کے مختلف حصوں میں ملبہ ہٹا کر لاپتہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ مسلسل ملبہ، پانی اور دشوار گزار جغرافیائی حالات امدادی اور تلاشی کاروائی کے سامنے بڑی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد