
جالنہ ، 12 ستمبر (ہ س) ۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جرانگے پاٹل نے ہفتہ کے روز جالنہ ضلع کے انتر والی سراٹی میں منعقدہ مراٹھا سماج کی مجلس میں اعلان کیا کہ وہ 15 ستمبر کو ممبئی کے لیے روانہ ہوں گے اور آزاد میدان میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مراٹھا سماج کے مطالبات پر توقع کے مطابق کارروائی نہ کیے جانے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ جرانگے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ پُرامن طریقے سے تحریک میں شامل ہوں اور کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کا جواب نہ دیں۔جرانگے نے کہا کہ مراٹھا سماج 15 ستمبر کو انتر والی سراٹی سے ممبئی کے لیے روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر حال میں ممبئی جانا چاہتے ہیں۔ راستے میں کوئی کتنی بھی مشکلات پیدا کرے، ہمیں ان کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا ہے۔ ہمارے سامنے سماج کا درد اور بچوں کا مستقبل ہونا چاہیے۔ ہمیں اس سال کسی بھی صورت میں کامیابی حاصل کرنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی مارچ کے دوران پہلا پڑاؤ بیڑ ضلع کے پاٹودا، دوسرا اہلیہ نگر ضلع کے شری گوندا، تیسرا پونے ضلع کے ہڑپسر اور چوتھا رائے گڑھ ضلع کے کھوپولی یا کوپر کھیرنے میں ہوگا۔ اس کے بعد مظاہرین ممبئی کے آزاد میدان پہنچیں گے، جہاں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔جرانگے نے مراٹھا سماج کے ان افراد سے بھی اپیل کی جن کے پاس گاڑیاں ہیں کہ وہ رضاکارانہ طور پر دیگر مظاہرین کو ممبئی پہنچانے میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ممبئی نہیں جاسکتے، وہ مارچ کے راستے میں پہنچ کر تحریک میں شامل افراد کی حمایت کریں اور انہیں اپنا آشیرواد دیں۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کی لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ ممبئی جانے کا فیصلہ حتمی ہے اور تحریک آئین کی جانب سے دیے گئے حقوق کے تحت پُرامن طریقے سے چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق اس تحریک کا مقصد مراٹھا سماج کے حقوق کا تحفظ اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔مراٹھا سماج نے حکومت کے سامنے 15 اہم مطالبات رکھے : اجلاس میں ریاستی حکومت کے سامنے مراٹھا سماج کے 15 اہم مطالبات بھی پیش کیے گئے۔ ان میں جسٹس شندے کمیٹی کے پاس موجود 58 لاکھ ریکارڈ کی بنیاد پر اہل افراد کو فوری طور پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنا اور حیدرآباد گزٹیر کی بنیاد پر مراٹھواڑہ میں کنبی سرٹیفکیٹ اور ذات کی تصدیق کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ستارا اور کولہاپور گزٹیر کو بھی فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران ریاست بھر میں درج کیے گئے پولیس مقدمات، جن میں انتر والی سراٹی کے معاملات بھی شامل ہیں، واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مراٹھا اور کنبی برادری کے لیے الگ وزارت قائم کرنے اور زیر التوا ذات کی تصدیق کے سرٹیفکیٹ فوری طور پر جاری کرنے کی مانگ بھی رکھی گئی۔ مراٹھا سماج کو دیگر پسماندہ طبقات کو ملنے والی تعلیمی رعایتیں اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے، سارتھی کی بند اسکیمیں دوبارہ شروع کرنے، پنجاب راؤ دیشمکھ وظیفہ فراہم کرنے اور طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت دستیاب کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔تحریک کے دوران جان گنوانے والے افراد کے ورثا کو سرکاری ملازمت اور مالی امداد دینے کی مانگ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ جسٹس شندے کمیٹی کی جانب سے ریکارڈ تلاش کرنے کا کام پوری صلاحیت کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مہا وِترن کے اشتہار نمبر 06 2023 میں معاشی طور پر کمزور طبقے کی زمرے سے منتخب مراٹھا امیدواروں کو فوری تقرری دینے کی مانگ بھی کی گئی۔ انا صاحب پاٹل معاشی طور پر پسماندہ ترقیاتی کارپوریشن سے متعلق زیر التوا سود کی تلافی کی رقم تقسیم کرنے اور سیج سے متعلق تجاویز کے نوٹیفکیشن کو قانون کی شکل دے کر نافذ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا۔سارتھی اور دیگر سرکاری فلاحی اداروں کی اسکیموں میں یکساں پالیسی نافذ کرنے کے ساتھ منسوخ کیے گئے ذات کے سرٹیفکیٹ کے معاملات میں شفاف اور غیر جانب دار اپیل کا طریقہ کار نافذ کرنے کی مانگ بھی مجلس میں اٹھائی گئی۔ جرانگے نے اپنے حامیوں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ ممبئی مارچ کے دوران امن برقرار رکھیں اور کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کا واحد مقصد مراٹھا سماج کے حقوق کا تحفظ اور آنے والی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے