
فیروزپور، 12 ستمبر (ہ س)۔ فیروزپور کی ضلع عدالت کے احاطے میں ہفتہ کی صبح اس وقت افراتفری مچ گئی، جب عدالت کے ای- میل پر بم دھماکے کی دھمکی کا پیغام موصول ہوا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر پولیس نے پوری عدالت کا احاطہ خالی کرا لیا اور عام لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے کئی گھنٹے تک احاطے میں تلاشی مہم چلائی۔
یہ دھمکی ایسے وقت ملی جب ضلع عدالت احاطے میں قومی لوک عدالت کا انعقاد ہونا تھا۔ پروگرام کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، تاہم دھمکی کے بعد پولیس نے سکیورٹی کو ترجیح دیتے ہوئے پورا احاطہ خالی کرا دیا۔ سکیورٹی جانچ کے باعث عدالت کی کارروائی بھی صبح 11:30 بجے تک ملتوی رہی۔ ایس پی دلویندر سنگھ، ڈی ایس پی (ڈی) برجندر سنگھ، ڈی ایس پی (دیہی) کرن شرما سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران موقع پر پہنچے۔پولیس نے ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد سے عدالت کے کمروں، دفاتر، راہداریوں اور دیگر حصوں کی باریک بینی سے تلاشی لی، تاہم اس دوران کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔
ایس پی دلویندر سنگھ نے بتایا کہ پورے احاطے کی اچھی طرح جانچ کی گئی ہے اور اب تک کوئی مشتبہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دھمکی کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تکنیکی ٹیمیں دھمکی آمیز ای میل بھیجنے والے شخص کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔
فیروزپور ضلع عدالت احاطے کو تقریباً نو ماہ کے دوران یہ پانچویں مرتبہ دھمکی ملی ہے۔ اس سے پہلے 8 جنوری، 6 اپریل، 12 اگست اور 26 اگست کو بھی دھمکی آمیز ای میل موصول ہوچکے ہیں۔ بار بار ملنے والی ایسی دھمکیوں سے وکلا، عدالتی افسران اور عدالت آنے والے لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ عدالتی کام کاج بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد