
نئی دہلی، 11 ستمبر (ہ س)۔ سروائیکل کینسر کی روک تھام کی سمت میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے قومی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کے تحت ملک میں اب تک 80 لاکھ سے زائد ایچ پی وی ویکسین کی ڈوز دی جاچکی ہیں۔ یہ مہم فروری 2026 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کی تھی۔مہم کے تحت 14 سال کی عمر کی نوعمر لڑکیوں کو والدین کی رضامندی سے سرکاری صحت مراکز پر رضاکارانہ طور پر مفت سنگل ڈوز ایچ پی وی ویکسین دی جا رہی ہے۔
بھارتی رجسٹرار جنرل کے 2021 کے اندازے کے مطابق, ملک میں ہر سال تقریباً 1.2 کروڑ لڑکیاں 14 سال کی عمر کو پہنچتی ہیں، جنہیں اس مہم سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
وزارت صحت نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ چار ریاستوںمیں صد فیصد کوریج درج کیا گیا ہے۔ان ریاستوں میں گجرات، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور میزورم شامل ہیںجہاں اپنے ہدف شدہ گروپ کا 100 فیصد کوریج حاصل کرلیا گیا ہے۔ بہار، آندھرا پردیش اور آسام میں 90 فیصد سے زیادہ کوریج درج کیا گیا ہے۔
کرناٹک میں 85 فیصد سے زیادہ، جبکہ چھتیس گڑھ، سکم، کیرالہ، تلنگانہ اور اڈیشہ میں 60 فیصد سے زیادہ کوریج حاصل ہوئی ہے۔ ریاستوں میں اتر پردیش سب سے آگے ہے، جہاں مہم کے تحت 22 لاکھ سے زائد نوعمر لڑکیوں کو ایچ پی وی ویکسین دی جاچکی ہے۔
وزارت کے مطابق مہم کے دوران والدین، اساتذہ، صحت کارکنوں اور طبی ماہرین کو شامل کرکے ایچ پی وی ٹیکہ کاری سے متعلق غلط فہمیوں اور غلط معلومات کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایمس جیسے اداروں کے ماہرین کے ساتھ ماہر اطفال، ماہر امراض نسواں، آشا اور اے این ایم کارکنان بھی بیداری مہم میں تعاون کر رہے ہیں۔
ٹیکہ کاری کی نگرانی کے لیے یو-وِن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے ضلع کی سطح پر کوریج، ویکسین سے محروم رہ جانے والے مستحقین اور ٹیکہ کاری کی خامیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
سرکاری صحت مراکز پر تمام ٹیکہ کاری سیشن تربیت یافتہ طبی افسران کی نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔نایاب سائیڈ افیکٹس( ٹیکہ کاری کے بعد ہونے والے نایاب مضر اثرات) سے نمٹنے کے لیے سرکاری صحت مراکز کو 24×7 طبی خدمات سے جوڑا گیا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق مہم اب آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے اور باقی ماندہ اہل نوعمر لڑکیوں تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ کوئی بھی اہل لڑکی ایچ پی وی ٹیکہ کاری سے محروم نہ رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد