
بھاگلپور، 10 ستمبر (ہ س)۔ گنگا کے پانی کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح نے اب تباہ کن شکل اختیار کر لیا ہے۔ دیہی اور دیارہ علاقے ڈوبنے کے بعد اب سیلاب کا پانی بھاگلپور کے شہری علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے علاقے کے وارڈ نمبر 1، 9 اور 10 میں پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔
صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ گھروں کے نچلے حصے زیر آب آنے کے بعد کئی خاندان چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ شہری علاقوں میں گلیاں تالاب میں تبدیل ہو گئی ہیں اور معمولات زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ بچوں کے لیے خوراک، ادویات اور دودھ جیسی روزمرہ کی ضروریات کا حصول ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ اس تباہی میں خواتین، بوڑھے اور چھوٹے بچوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگ پانی میں گھومنے پھرنے پر مجبور ہیں۔
اس کے علاوہ سیلاب کا پانی کئی شہری اسکولوں میں داخل ہو گیا ہے جس سے بچوں کی تعلیم میں خلل پڑ رہا ہے۔ امن کمیٹی کے رکن اور سماجی کارکن سنجے کمار یادو نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 19 بھی سیلاب سے شدید متاثر ہے، جہاں پانی کی سطح بلند ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ متاثرہ افراد کو مناسب سہولیات اور امدادی سامان فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کا مستقل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ سنجے کمار نے کہا، ’’ہر سال عوام سیلاب اور کٹاؤ سے متاثر ہوتے ہیں ۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ خشک موسم (موسم گرما) کے دوران مستقل اینٹی ایروشن اور فلڈ کنٹرول کا کام کرے تاکہ ہر سال ایسی خوفناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فی الحال گنگا کی بڑھتی ہوئی پانی کی سطح نے شہر کے رہائشی علاقوں کو اپنی زد میں لے لیا ہے، جس سے انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھل رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر خوراک، ادویات اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan