
واشنگٹن، 10 ستمبر (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ٹیکساس کے ڈلاس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس کامیابی میں وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ہونے والے نئے توانائی معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ممکنہ طور پر ’’امریکی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اب ہم دنیا میں سب سے بڑے ہیں اور اس میں وینزویلا شامل نہیں ہے، جسے ہم نے ابھی اپنے چھوٹے سے ذخیرے میں شامل کیا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے وینزویلا کے اندازاً 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ کی توانائی کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ معاہدہ وینزویلا میں تیل کی پیداوار اور تعمیر نو سے متعلق ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔
معاہدے کے تحت نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز (این اے بی ای پی) اپنی بنیادی کمپنی میں 35 فیصد ایکویٹی حصص پینٹاگون کے آفس آف اسٹریٹجک کیپٹل کو بلا معاوضہ دے گی۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کو پیدا ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ لاگت کی قیمت پر خریدنے کا حق دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، این اے بی ای پی نے وینزویلا کے 17 تیل کے میدانوں کے لیے 100 سالہ رعایتیں حاصل کی ہیں۔ تاہم، وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اس سے پہلے اس معاہدے کو 25 سالہ معاہدہ قرار دے چکی ہیں۔
اس مدت کے حوالے سے دونوں فریقوں کے بیانات میں فرق نے معاہدے کی شرائط پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ اس توانائی معاہدے سے ابتدائی 25 برسوں میں رائلٹی اور ٹیکس کی مد میں تقریباً 200 ارب ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق، اس رقم کا استعمال وینزویلا کی تعمیر نو، اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود سے متعلق منصوبوں میں کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو امریکہ کی توانائی کی طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے تیل کے وسائل کو دوبارہ ترقی دینے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد