اے سی بی نے مڈ ڈے میل اسکیم میں خرد برد کے الزام میں جونئیر اسسٹنٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
جموں, 31 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو نے منجاکوٹ میں مڈ ڈے میل اسکیم کے راشن میں خردبرد اور سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کے معاملے میں سابق جونیئر اسسٹنٹ محمد فاروق کے خلاف خصوصی انسدادِ بدعنوانی عدالت راجوری میں فردِ جرم دائر ک
Chargesheet


جموں, 31 اگست (ہ س)۔

جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو نے منجاکوٹ میں مڈ ڈے میل اسکیم کے راشن میں خردبرد اور سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کے معاملے میں سابق جونیئر اسسٹنٹ محمد فاروق کے خلاف خصوصی انسدادِ بدعنوانی عدالت راجوری میں فردِ جرم دائر کر دی۔

انسدادِ بدعنوانی بیورو کے مطابق محمد فاروق اس وقت زونل ایجوکیشن آفیسر منجاکوٹ کے دفتر میں جونیئر اسسٹنٹ اور مڈ ڈے میل اسکیم کے نگران کے طور پر تعینات تھا۔ اس معاملے میں مقدمہ 28 دسمبر 2018 کو درج کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت 256.40 کوئنٹل چاول مبینہ طور پر خردبرد کیے گئے، جن کی مالیت 8 لاکھ 3 ہزار 557 روپے 60 پیسے تھی۔ اس کے علاوہ کھانا پکانے کے اخراجات کی مد میں 4 لاکھ 61 ہزار 578 روپے کی رقم بھی مبینہ طور پر خردبرد کی گئی۔

بیورو کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں مبینہ طور پر ردوبدل کرکے جعلی اور فرضی طلب نامے اور اجازت نامے تیار کیے گئے۔ فارنسک سائنس لیبارٹری کی رائے حاصل کرنے کے بعد تحقیقات میں اس وقت کے زونل ایجوکیشن آفیسر شاہ نواز خان اور جونیئر اسسٹنٹ محمد فاروق کے خلاف الزامات کے ابتدائی شواہد سامنے آئے۔

انسدادِ بدعنوانی بیورو نے بتایا کہ سرکاری عہدے کا مبینہ طور پر ناجائز استعمال کرتے ہوئے کی گئی خردبرد سے سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 12 لاکھ 65 ہزار 135 روپے 60 پیسے کا نقصان پہنچا۔

چونکہ سابق زونل ایجوکیشن آفیسر شاہ نواز خان دورانِ کارروائی وفات پا چکے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکی۔ محمد فاروق کے خلاف مقدمہ چلانے کی مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد بیورو نے 31 اگست کو خصوصی انسدادِ بدعنوانی عدالت راجوری میں فردِ جرم پیش کی۔

عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande