بحیرہ اسود میں ترکیہ سے چلنے والے بحری جہازوں پر حملہ، یوکرین کے سفیر کو طلب کیا
انقرہ، 29 اگست (ہ س)۔ بحیرہ اسود میں ترکیہ کے ذریعہ چلائے جانے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ترک سفارتی ذرائع کے مطابق انقرہ نے ان حملوں کے
Trkiye-summons-Ukraine-ambassador-over-Black-Sea-a


انقرہ، 29 اگست (ہ س)۔ بحیرہ اسود میں ترکیہ کے ذریعہ چلائے جانے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ترک سفارتی ذرائع کے مطابق انقرہ نے ان حملوں کے حوالے سے یوکرین سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، یوکرین کے انقرہ میں مقیم سفیر، نریمان زیلیالوف کو اس واقعے کے بعد وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا جس میں ترکیہ کے زیر اہتمام آپریشنل جہاز لیڈر بورڈو ماوی کو 26 اگست کو تواپسے کے قریبنشانہ بنایا گیا تھا۔

اگلے دن صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ تباہ شدہ جہاز کو کھینچ کر محفوظ مقام تک لے جانے کے لیے بھیجے گئے لیڈر کوکاتیپے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

یوکیرن کے سفیر کے ساتھ بات چیت کے دوران ترکیہ نے ان واقعات پر شدید احتجاج درج کرایا۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ انقرہ نے بحیرہ اسود کے علاقے میں جان، املاک، میری ٹائم نیویگیشن اور ماحول کی حفاظت کو انتہائی اہمیت کا حاملبتایا۔

ترکیہنے یوکرین پر واضح کیا کہ بحیرہ اسود میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande