مشرقی یروشلم میںیواین آر ڈبلیو اے مرکز پر اسرائیلی قبضے کی مذمت، یورپی یونین سمیت 15 فریقوں کا احتجاج
یروشلم، 29 اگست (ہ س)۔ یورپی یونین (ای یو) اور 14 ممالک نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے یو این آر ڈبلیو اے کے لیے
مشرقی یروشلم میںیواین آر ڈبلیو اے مرکز پر اسرائیلی قبضے کی مذمت، یورپی یونین سمیت 15 فریقوں کا احتجاج


یروشلم، 29 اگست (ہ س)۔

یورپی یونین (ای یو) اور 14 ممالک نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل سے ایجنسی کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، یروشلم میں بیلجیم کے قونصل جنرل کی جانب سے جاری مشترکہ بیان پر بلجیم، برازیل، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈز، ناروے، اسپین، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور یورپی یونین نے دستخط کیے ہیں۔بیان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے قلندیا ٹریننگ سینٹر میں مبینہ غیر قانونی داخلے اور مشرقی یروشلم میں یو این آر ڈبلیو اے کی دیگر سہولیات پر قبضے کی مذمت کی گئی۔یو این آر ڈبلیو اے کے مشاورتی کمیشن کے رکن ان ممالک نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے احاطوں کو تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے مراعات اور استثنیٰ سے متعلق کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مقامات کی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی ہدایات پر فوری اور مکمل طور پر عمل کرے اوریو این آر ڈبلیو اے کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے مقررہ انسانی اور دیگر فرائض انجام دینے کی اجازت دے۔بیان میں اسرائیل سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنے اور یو این آر ڈبلیو اے کی سرگرمیوں و کام میں ہر قسم کی رکاوٹ فوری طور پر ختم کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، منگل کو اسرائیلی فوج نے یو این آر ڈبلیو اے کے ملازمین کو قلندیا ٹریننگ سینٹر سے باہر نکال دیا اور احاطے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بعد ازاں مرکز کے صحن میں اسرائیلی پرچم بھی لہرایا گیا۔اسرائیلی فوجی قلندیا پناہ گزین کیمپ اور قریبی علاقے کفر عقب میں بھی تعینات رہے۔ اس دوران تلاشی مہم چلانے اور فلسطینیوں سے پوچھ گچھ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔اس واقعے پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔قلندیا ٹریننگ سینٹر میں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور صحت کی سہولیات کے علاوہ تربیتی ورکشاپس، کلاس رومز، رہائشی ہاسٹل اور انتظامی عمارتیں بھی موجود ہیں۔

یہ مرکز 1952 میں فلسطین میں یو این آر ڈبلیو اے کے ابتدائی مراکز میں سے ایک کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہاں تقریباً 270 طلبہ 16 مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں تربیت حاصل کرتے ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً 250 سے 300 طلبہ یہاں سے اپنی تربیت مکمل کرتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان یو این آر ڈبلیو اے کے مستقبل اور سرگرمیوں کو لے کر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے 2024 میں ایسے قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت اسرائیل کے اندر یو این آر ڈبلیو اے کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے اور ایجنسی کے کام کو محدود کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی۔ یہ قانون گزشتہ سال نافذ ہوا۔

اکتوبر 2025 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی سہولیات، جن میں یو این آر ڈبلیو اے کے زیر انتظام مراکز بھی شامل ہیں، کے تحفظ اور تقدس کا احترام کرنا چاہیے اور ایجنسی کے کام میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل کی مخالفت کے باوجود یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ میں تین سال کی توسیع کر دی۔ اس فیصلے کے تحت ایجنسی کو جون 2029 تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت حاصل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande