انسانی حقوق مغربی ممالک کے ہاتھوں میں سیاسی ہتھیار بن چکے ہیں: عباس عراقچی
تہران، 29 اگست (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مغربی ممالک پر انسانی حقوق کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے ہاتھوں میں انسانی حقوق ایک ’سیاسی ہتھیار‘ بن چکے ہیں اور انہیں اپن
انسانی حقوق مغربی ممالک کے ہاتھوں میں سیاسی ہتھیار بن چکے ہیں: عباس عراقچی


تہران، 29 اگست (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مغربی ممالک پر انسانی حقوق کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے ہاتھوں میں انسانی حقوق ایک ’سیاسی ہتھیار‘ بن چکے ہیں اور انہیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی کے مطابق، عباس عراقچی نے یہ بیان تہران میں منعقدہ ’میناب اسکول‘ پینٹنگ نمائش کے دوران دیا۔ نمائش میں 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے روز میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے سے متعلق فن پارے پیش کیے گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر دوسرے ممالک انسانی حقوق کے حقیقی مفہوم کو دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس نمائش کا دورہ کرنا چاہیے اور یہاں پیش کیے گئے فن پاروں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نمائش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، ’انسانی حقوق یہاں ہیں۔‘ ان کے مطابق نمائش میں موجود تصاویر اس واقعے اور اس کے انسانی اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔عباس عراقچی نے جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اسکول میں 264 طلبہ کلاسوں میں موجود تھے، اس وقت میزائل حملے کیے گئے۔ایرانی وزیر خارجہ کے دعوے کے مطابق اس حملے میں 7 سے 12 سال کی عمر کے 168 طلبہ اور 26 اساتذہ ہلاک ہوئے، جبکہ 96 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ تاہم ان اعداد و شمار اور حملے کے حالات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق دستیاب نہیں ہے۔عراقچی نے کہا کہ ایران نے میناب اسکول کے بچوں کو کھو دیا، لیکن وہ ایرانی عوام کے لیے’بہادری کی مثال‘ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میناب اسکول اور اس کے بچے ایرانی عوام کے لیے ایک عظیم داستان بن گئے ہیں۔‘انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس واقعے کو نہ تو بھولے گا اور نہ ہی اسے نظر انداز کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ اس نمائش کو دوسرے ممالک میں بھی لے جایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اسے نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دیں اور انسانی حقوق سے متعلق مبینہ ناانصافیوں کے نتائج دیکھنے کا ’حوصلہ‘ دکھائیں۔عباس عراقچی نے انسانی حقوق کے معاملے پر ایران کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’حقیقی معنوں میں انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے‘ اور اس نے ہمیشہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران دوسرے ممالک کو سیاسی مقاصد کے لیے انسانی حقوق کے مسئلے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande