
نئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔ دہلی کی راوس ایونیو کورٹ نے دہلی جل بورڈ ایس ٹی پی گھوٹالہ کے ملزم اور دہلی جل بورڈ کے سابق سی ای او ادت پرکاش رائے اور ناگیندر یادو کو دو دن کی اے سی بی حراست میں بھیج دیا ہے۔
اس معاملے کے ملزم اور دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین نے ضمانت کی درخواست دائر کی ہے، جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جین کے وکیل نے دلیل دی کہ جین کو مقدمہ درج ہونے کے 27 ماہ بعد گرفتار کیا گیا تھااور انہیں صرف ایک بار پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی) نے ستیندر جین کے علاوہ جن ملزمین کو گرفتار کیا تھا، ان میں ادت پرکاش رائے، دہلی جل بورڈ کے سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکت سریواستو، میسرز اے این انٹرپرائزز کے مالک ناگیندر یادو، میسرز یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راجہ کمار کرا اور میسرز سرجن ہار کے مالکپنکج ورما شامل ہیں۔
ان ملزمان کو 11 مئی اے سی بی کی اس ایف آئی آر کے معاملے میں گرفتار کیا گیا،جو 11مئی 2024 کو انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 7، 7اے 9، 13 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 42, 409, 418, 120-بی کے تحت درج اے سی بی ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اے سی بی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی شرائط ایک مخصوص کمپنی کے حق میں تیار کی گئی تھیں۔ ستیندر جین کو منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں اکتوبر 2024 میں تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ انہوں نے منی لانڈرنگ کیس میں 872 دن جیل میں گزارے۔ انہیں ای ڈی نے 30 مئی 2022 کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں ٹرائل کورٹ نے 18 اکتوبر 2024 کو ضمانت دی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد