ابھیشیک بنرجی کے کمیک اسٹریٹ دفتر پر قبضے کا الزام، مکان مالک نے قانونی نوٹس بھیجا
کولکاتا، 29 اگست (ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے کماک اسٹریٹ واقع دفتر کو لے کر تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ غیر قانونی ہورڈنگ کے تنازع کے بعد اب دفتر والی عمارت کی دو منزلوں پر مبینہ طور پر قبضہ کیے جانے کا الزام سامنے آیا
ابھیشیک بنرجی کے کمیک اسٹریٹ دفتر پر قبضے کا الزام، مکان مالک نے قانونی نوٹس بھیجا


کولکاتا، 29 اگست (ہ س)۔

ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے کماک اسٹریٹ واقع دفتر کو لے کر تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ غیر قانونی ہورڈنگ کے تنازع کے بعد اب دفتر والی عمارت کی دو منزلوں پر مبینہ طور پر قبضہ کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے۔ مکان مالک فریق نے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے عمارت کے حصے پر قبضہ برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 9 نمبر کمیک اسٹریٹ واقع اس عمارت کو سال 2020 میں ترنمول یوتھ کانگریس نے مکان مالکن رما گوئنکا سے کرائے پر لیا تھا۔ مکان مالک فریق کا الزام ہے کہ کرایے کے معاہدے میں طے شدہ شرائط پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرکے عمارت کی دو منزلوں پر قبضہ کر لیا گیا۔

مکان مالک فریق کا دعویٰ ہے کہ عمارت میں کچھ تبدیلیوں اور تعمیراتی کام کے لیے اجازت اور سرٹیفکیٹ سے متعلق معاملات کو لے کر کئی بار درخواست کی گئی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ الزام ہے کہ مکان مالک کو اطلاع دیے بغیر عمارت پر ہورڈنگ بھی لگا دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ سال 2020 کے کرایے کے معاہدے پر فی الحال جیل میں بند ترنمول لیڈر دیبرا ج چکرورتی نے دستخط کیے تھے۔ مکان مالک فریق کی جانب سے اس معاملے میں قانونی نوٹس بھیجے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

دراصل، کمیک اسٹریٹ واقع ابھیشیک بنرجی کے دفتر پر لگی ہورڈنگ کو ہٹانے کے معاملے پر گزشتہ جمعرات کو تنازع ہوا تھا۔ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے افسران جب غیر قانونی ہورڈنگ ہٹانے پہنچے تو دفتر کے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ پولیس کی جھڑپ ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جمعہ کی شام پولیس کے انسدادِ جرائم دستے نے توفیق نامی ایک شخص کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق وہ بھی اس واقعے میں شامل تھا۔ اس معاملے میں اب تک مجموعی طور پر 14 گرفتاریاں ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

اب ہورڈنگ کے تنازع کے بعد اسی دفتر سے منسلک عمارت پر قبضے کا الزام سامنے آنے سے معاملہ مزید گرم ہو گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande