
ناگپور، 29 اگست (ہ س) طلبہ کی تعلیمی صلاحیت کا جائزہ لینے، ان کی مضبوطیوں، بہتری کی ضرورت والے شعبوں اور مستقبل کی تیاری کی سمت سمجھنے میں مدد فراہم کرنے والی آکاش نیشنل ٹیلنٹ ہنٹ ایگزام یعنی اینتھے 2026 کا انعقاد اس سال بھی کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 16 سال کے دوران اس امتحان کے لیے 1 کروڑ سے زیادہ طلبہ نے رجسٹریشن کرایا ہے، جس کے باعث یہ ملک کے طویل عرصے سے منعقد ہونے والے اور بڑے طلبہ تشخیصی پلیٹ فارمز میں شامل ہو گیا ہے۔
آکاش نیشنل ٹیلنٹ ہنٹ ایگزام یعنی اینتھے صرف نمبروں پر مبنی امتحان نہیں ہے، بلکہ اسے سائنسی طریقے سے تیار کردہ تشخیصی جائزے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ امتحان میں شامل ہر سوال کو کسی مخصوص تصور اور صلاحیت کا جائزہ لینے کے مقصد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کے مضمون سے متعلق علم، تجزیاتی صلاحیت، مسابقتی امتحانات کی تیاری اور امتحان دیتے وقت ان کے رویے کا وسیع پیمانے پر جائزہ لیا جاتا ہے۔
ادارے کے مطابق اینتھے کے ذریعے حاصل ہونے والا جائزہ قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نیٹ یو جی 2026 میں آکاش کے ٹاپ 100 طلبہ میں شامل 41 میں سے 31 طلبہ پہلے اینتھے کے ذریعے منتخب ہو چکے تھے۔اسی طرح جے ای ای ایڈوانس 2026 میں ٹاپ 100 میں جگہ حاصل کرنے والے آکاش کے 11 طلبہ میں سے 7 طلبہ اینتھے کے سابق کامیاب طلبہ تھے۔ ادارے نے ان اعداد و شمار کو اینتھے کے ذریعے ہونے والے تعلیمی اور مسابقتی جائزے کی افادیت سے جوڑا ہے۔
اینتھے میں شرکت کرنے والے طلبہ کو امتحان کے بعد اینتھے انٹیلی جنس رپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے ذریعے طلبہ کو مضمون کے لحاظ سے اپنی مضبوطیوں اور ان شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں جہاں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں طلبہ کی مسابقتی امتحان میں کامیابی کی صلاحیت یعنی سی ای ایس پی، امتحان دینے سے متعلق شخصیت یعنی ٹی ٹی پی اور اٹیمپٹ انٹیلی جنس کوشنٹ یعنی اے آئی کیو جیسے عوامل کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے۔اس تجزیے کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کوئی طالب علم سوال حل کرتے وقت درستگی، کوشش اور خطرہ مول لینے کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔
قومی سطح کی بینچ مارکنگ کے ذریعے طلبہ کو اپنے ریاست اور ملک کی سطح پر ہم عمر طلبہ کے مقابلے میں اپنی تعلیمی پوزیشن سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس طرح اینتھے کی افادیت صرف جے ای ای یا نیٹ کی تیاری کرنے والے طلبہ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ تعلیمی سفر کے ابتدائی مرحلے میں موجود طلبہ بھی اس جائزے سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
آکاش ایجوکیشنل سروسز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چندر شیکھر گریسا ریڈی نے کہا کہ اینتھے صرف طالب علم کی تعلیمی پیش رفت کو جانچنے والا امتحان نہیں ہے۔ اس کا وسیع مقصد طلبہ کو اپنی صلاحیتوں، مضبوطیوں اور ان شعبوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے جہاں انہیں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 16 سال کے دوران 1 کروڑ سے زیادہ طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کے جائزے کے لیے اینتھے پر اعتماد کیا ہے۔ ان کے مطابق ادارے کی کوشش ہے کہ ہر طالب علم اس امتحان کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں زیادہ واضح سمجھ اور مستقبل کے لیے بہتر اور باخبر سمت کے ساتھ آگے بڑھے۔
اینتھے 2026 میں مقررہ معیار پر پورا اترنے والے طلبہ کو قواعد کے مطابق 100 فیصد تک اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے مجموعی طور پر 2.5 کروڑ روپے کے نقد انعامات بھی رکھے گئے ہیں۔ جماعت 5 سے جماعت 12 تک کے طلبہ اس امتحان میں شرکت کے اہل ہیں۔ امتحان آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے منعقد کیا جائے گا۔اینتھے 2026 کے لیے رجسٹریشن سرکاری اینتھے پورٹل اور ملک بھر میں موجود آکاش مراکز پر شروع ہو چکی ہے۔ آن لائن امتحان 27 اکتوبر سے 1 نومبر 2026 کے درمیان منعقد ہوگا، جبکہ آف لائن امتحان 11 اکتوبر، 25 اکتوبر اور 1 نومبر 2026 کو لیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے