
لکھنؤ، 29 اگست (ہ س)۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ایسے لوگوں کے نام سے بھی فرضی فارم - 7بھروا کر ووٹوں کو کٹوانے کا کام کیا ، جو دستخط تک کرنا نہیں جانتے تھے۔
اکھلیش یادو ہفتہ کو راجدھانی لکھنؤ میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ”نند لال نشاد، جو دستخط کرنا نہیں جانتے تھے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے نقلی دستخط کروا کر ووٹ کٹوانے کا کام فرضی فارم 7-بھروا کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اس طرح کی سرگرمیوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔“
ایس پی صدر نے کہا کہ نہ کبھی تاناشاہی چلی تھی، نہ چلے گی۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ریاست میں صحت کے نظام کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ اس بی جے پی حکومت میں محکمہ صحت خود وینٹی لیٹر پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی مستقبل میں اپنے منشور میں ایسی تجویز لائے گی،جس کے تحت غریبوں کو سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے کوئی پیسہ نہیں دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کو سنگین بیماریوں کے علاج میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لئے سماج وادی پارٹی کی حکومت ٹھوس انتظامات کرے گی ۔
اکھلیش نے کہا کہ جے پی این آئی سی سماجوادیوں کے لیے ایک جذباتی جگہ ہے، جئے پرکاش نے سمپورن کرانتیکی کال دی تھی اور اس وقت ملک میں سیاسی تبدیلی آئی تھی۔ بی جے پی حکومت نے اس جگہ کو بھی برباد کر دیا ہے۔ رکشا بندھن پر خواتین کے لیے مفت بس سفر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے رکشا بندھن پر مفت بس سفر کا وعدہ تو کیا لیکن بسیں ہی ہٹوا دیں۔
ایس پی صدر نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ جاٹ برادری کے اندر موجود غصے اور مارے گئے مقبول نوجوان گلوکار انکت بالیان کے غمزدہ والد کی بات سنیں گے یا ان سے بھی اسی طرح پیش آئیں گے ، جیسا پہلے ایک غمزدہ ماں کے ساتھ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو صرف ووٹوں کی فکر ہے، جاٹ یا کسی اور برادری سے نہیں۔ نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ آج جو جاٹ لیڈر اپنے مفاد کی وجہ سبی جے پی کے ساتھ کھڑے ہیں، ان سے پورا جاٹ سماج جواب مانگ رہا ہے۔
انہوں نے ریاست میں بن رہے ایکسپریس وے اور سڑکوں کو لے کر بی جے پی حکومت پر حملہ کیا۔ اکھلیش نے کہا کہ لکھنو¿ اور کانپور ایکسپریس وے کی لاگت چار ہزار کروڑروپے سے زیادہ ہے، وزیر اعلیٰ نے تو اپنی سڑکوں میں گول مال کر لیا۔ بی جے پی کے لوگ پروگریسیو سوچ کے لوگ نہیں ہیں،ان کا منفی نقطہ نظر ہے۔ بی جے پی نے ہر چیز مہنگی کر دی ہے۔ عام لوگوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا ، لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ مہنگائی کرپشن کی وجہ سے ہے۔ اگر سماج وادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو وہ قیمت کنٹرول کے اصول پر کام کریں گے ۔
اس سے قبل ایس پی ہیڈکوارٹر میں دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد کو شمولیت اختیار کرائی گئی۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، کانگریس اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے کئی لیڈر اکھلیش یادو کی موجودگی میں سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئے۔ ان میں شراوستی سے اے آئی ایم آئی ایم لیڈر عبدالمنان، پیلی بھیت سے سابق ایم ایل اے ہیمراج ورما اور پرتاپ گڑھ سے سابق ایم ایل اے رام شیرومنی شکلا نمایاں تھے۔ اس کے علاوہ کئی سابق بلاک سربراہان اور ضلع پنچایت ممبران بشمول سابق ضلع پنچایت صدر اوشا موریہ نے بھی اپنے حامیوں کے ساتھ ایس پی میں شمولیت اختیار کی۔
ایس پی ممبر شپ پروگرام میں اکھلیش یادو نے کہا کہ تنگ نظر لوگ پی ڈی اے (پسماندہ، دلت، اقلیت) سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ”نہ جانے کیوںیہ پی ڈی اے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پی ڈی اے کو لے کرسماجوادی پارٹی جتنی سنجیدہ ہے، اتنی کسی اور پارٹی میں سنجیدگی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پارٹی کا ہدف 2027 میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بنانا ہے اور اسی سمت میں تنظیم کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
-------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد