وویکانند شِلا اسمارک اور وویکانند مرکز کے صدر اے۔ بال کرشن نہیں رہے
کنیا کماری (تمل ناڈو)، 27 اگست (ہ س)۔ وویکانند شِلا اسمارک اور وویکانند مرکز کے صدر اے۔ بال کرشن کا انتقال ہو گیا۔ 3 مئی 1938 کو کیرالہ میں پیدا ہونے والے بال کرشن نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بج کر 5 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ ایک وقف شدہ سماجی
وویکانند


کنیا کماری (تمل ناڈو)، 27 اگست (ہ س)۔ وویکانند شِلا اسمارک اور وویکانند مرکز کے صدر اے۔ بال کرشن کا انتقال ہو گیا۔ 3 مئی 1938 کو کیرالہ میں پیدا ہونے والے بال کرشن نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 12 بج کر 5 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ ایک وقف شدہ سماجی کارکن تھے۔ بھارتی فضائیہ میں کچھ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد 1973 میں وہ وویکانند مرکز کے مستقل تاحیات کارکنوں کے پہلے دستے میں شامل ہوئے تھے۔

وویکانند شِلا اسمارک اور وویکانند مرکز، کنیا کماری کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں بال کرشن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی پوری زندگی ایک کرم یوگی کی بہترین مثال تھی۔ انہوں نے خود کو وویکانند مرکز کو ایک ’زندہ یادگار‘ میں تبدیل کرنے کے ایک ناتھ رانا ڈے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے اور بھارت ماتا کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ایک ناتھ جی کی اپیل سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنی تربیت مکمل کی اور خدمت کے سفر کا آغاز کیا۔

مرکز کے مطابق، تربیت مکمل کرنے کے بعد بال کرشن کو ’طلوع ہوتے سورج کی سرزمین‘ کہے جانے والے اروناچل پردیش بھیجا گیا۔ اس وقت یہ خطہ 1962 کی بھارت-چین جنگ کے تباہ کن اثرات سے ابھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بال کرشن نے وہاں تعلیم کو ذریعہ بنا کر علم کی روشنی پھیلائی اور وویکانند مرکز کے بنیادی مقصد ’انسان سازی اور قوم سازی‘ کے مشن کو آگے بڑھایا۔

اروناچل پردیش میں تعلیم کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ریاستی حکومت نے 2014 میں انہیں ریاستی ایوارڈ سے نوازا۔ ان کی زندگی خدمت، نظم و ضبط اور قوم کے لیے بے لوث جدوجہد کی مثال رہی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی وویکانند مرکز کو ایک ’زندہ یادگار‘ بنانے کے ایکناتھ راناڈے کے خواب کوپواراکرنے اور بھارت ماتا کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande