مفتی محمد سلمان بجنوری کی اپیل : سیرتِ نبوی کو زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے
مفتی محمد سلمان بجنوری کی اپیل : سیرتِ نبوی ﷺ کو زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے علی گڑھ، 26 اگست (ہ س)۔ دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذِ حدیث مفتی محمد سلمان بجنوری نےآج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقد جلسہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلمانوں س
مفتی محمد سلمان بجنوری


مفتی محمد سلمان بجنوری کی اپیل : سیرتِ نبوی ﷺ کو زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے

علی گڑھ، 26 اگست (ہ س)۔ دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذِ حدیث مفتی محمد سلمان بجنوری نےآج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقد جلسہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ سیرت النبی ﷺ کو صرف ربیع الاول یا چند مخصوص ایام تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت و تعلیمات کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے اور پورے سال ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد سلمان بجنوری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی یاد اور آپ ﷺ کی تعلیمات صرف ربیع الاول کے مہینے یا 12 دنوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ سیرت النبی ﷺ کا پیغام سال کے 12 ماہ ہماری زندگیوں میں نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نبی کریم ﷺ کو یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی سیرت اور تعلیمات پر عملی طور پر عمل کرنا ہی اصل مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں مسلمان مختلف مسائل اور حالات سے دوچار ہیں۔ ان حالات میں رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کو گہرائی سے سمجھنے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیرت النبی ﷺ مسلمانوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اس سے اخلاق، کردار اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مفتی محمد سلمان بجنوری نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے کہا کہ انسانی معاشرے میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے اور تمام اختلافات کا مکمل طور پر ختم ہو جانا ممکن نہیں۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو ایک حد میں رکھا جائے اور غیر ضروری معاملات کو بڑھانے یا ان کی بلاوجہ تشہیر سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ باہمی اختلافات کو حدود میں رکھا جائے، غیر ضروری مسائل کو اہمیت نہ دی جائے اور ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔ ان کے مطابق اختلافات اپنی جگہ ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ ان سے پوری قوم کو نقصان پہنچے۔

مفتی محمد سلمان بجنوری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ مسلمان نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو صرف تقریروں اور اجتماعات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے کردار، معاملات اور روزمرہ زندگی میں بھی ان کا عملی نمونہ پیش کریں۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande