
سنبھل، 25 اگست (ہ س)۔
اتر پردیش کے سنبھل ضلع کی صدر تحصیل میں واقع شاہی جامع مسجد کو ہری ہر مندر قرار دینے کا دعویٰ کرنے والی عرضی پر منگل کو سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
25 اگست کو سول جج سینئر ڈویژن آدتیہ سنگھ کی عدالت میں اس معاملے کی سماعت ہونا تھی، تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے معاملے میں حکمِ امتناع (اسٹے) عائد ہونے کے باعث عدالت نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اگلی تاریخ 29 ستمبر مقرر کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کو ہری ہر مندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے آٹھ درخواست گزاروں کی جانب سے 19 نومبر 2024 کو سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ اسی مقدمے میں منگل کو سماعت مقرر تھی۔
اس سے قبل اس معاملے کی سماعت 21 جولائی کو سول جج سینئر ڈویژن آدتیہ سنگھ کی عدالت میں ہوئی تھی۔ اب عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ہندو فریق کے وکیل شری گوپال شرما نے بتایا کہ معاملے میں سپریم کورٹ کا اسٹے موجود ہونے کی وجہ سے آج کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور عدالت نے 29 ستمبر کی اگلی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 19 نومبر 2024 کو دائر کیے گئے مقدمے سے متعلق عدالت کے حکم کے خلاف مخالف فریق ہائی کورٹ گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے 18 مئی 2025 کو معاملے پر سماعت کی اور سول جج سینئر ڈویژن سنبھل کے حکم کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔شاہی جامع مسجد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل شکیل احمد وارثی نے بتایا کہ اس مقدمے میں 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی آج سماعت ہو رہی ہے۔اس طرح سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ کے حکمِ امتناع کے باعث آگے نہیں بڑھ سکا اور ضلعی عدالت میں اب 29 ستمبر کو آئندہ کارروائی متوقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan