
سابق وزیر نے ایس او جی کو زمین الاٹ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا
جموں، 25 اگست (ہ س)۔ سابق وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما چودھری سکھنندن کمار نے نکّی توی کے قریب جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کو 9 کنال 15 مرلہ سرکاری اراضی الاٹ کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مبینہ طور پر تجاوزات کے زیر قبضہ دیگر سرکاری اراضی کو بھی واگزار کرایا جائے۔ بی جے پی ہیڈکوارٹرز تریکوٹہ نگر جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھنندن کمار نے کہا کہ ایس او جی کو الاٹ کی گئی اراضی جموں خاص میں خسرہ نمبر 301، 302 اور 303 کے تحت آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے اہم مقصد کے لیے اس اراضی کا استعمال حکومت کا ایک مثبت قدم ہے، تاہم اسی کے ساتھ پورے علاقے میں سرکاری اراضی کی حد بندی اور تجاوزات کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ الاٹ کی گئی اراضی سے تقریباً 200 میٹر کے دائرے میں قریب 500 کنال گھر ممکن توی اراضی مبینہ طور پر تجاوزات کی زد میں ہے، جہاں سرکاری زمین پر بڑے مکانات اور دیگر مستقل تعمیرات کھڑی کی گئی ہیں۔ سکھنندن کمار نے کہا کہ متعلقہ اراضی کی میوٹیشن پہلے ہی ڈویژنل کمشنر جموں کی جانب سے منسوخ کی جا چکی ہے، اس کے باوجود علاقے میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تعمیرات کی گئی ہیں۔انہوں نے انتظامیہ سے خسرہ نمبر 301، 302 اور 303 سمیت ملحقہ سرکاری اور گھر ممکن توی اراضی کی دوبارہ موقع پر حد بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تجاوزات اور تعمیرات کی نشاندہی کے ساتھ ریونیو ریکارڈ، میوٹیشن اور رجسٹری دستاویزات کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں سرکاری اراضی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے فروخت یا منتقل تو نہیں کیا گیا۔
سابق وزیر نے کہا کہ کارروائی کسی ایک شخص یا طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی کسان کو سرکاری اراضی خالی کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو بڑے پیمانے پر سرکاری زمین پر قبضہ کر کے مکانات تعمیر کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے محکمہ ریونیو اور دیگر متعلقہ اداروں کو پورے علاقے میں وقت مقررہ کے اندر جامع تجاوزات مخالف مہم چلانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔
سکھنندن کمار نے کہا کہ قیمتی سرکاری اراضی کو تجاوزات یا مبینہ غیر قانونی لین دین کے ذریعے نجی ملکیت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایس او جی کو اراضی الاٹ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور حکومت کو اسے علاقے کی دیگر سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم کا آغاز بنانا چاہیے۔پریس کانفرنس کے دوران جے اینڈ کے بی جے پی میڈیا انچارج ڈاکٹر پردیپ مہوترا، سابق ڈی ڈی سی بلبیر لال اور متاثرہ شخص ترسیم بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر