راگھو پور-شنکر پور باندھ کا بڑا حصہ منہدم، گنگا کا پانی آبادیوں کی طرف بڑھا، 2008 جیسے سیلاب کا خدشہ
بھاگلپور، 24 اگست (ہ س)۔ ضلع کے نوگچھیا سب ڈویژن کے تحت کھریک بلاک کے جنوبی علاقے میں شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اتوار کی دیر رات گنگا کی سطحِ آب میں اچانک اضافے اور تیز بہاؤ کے باعث راگھو پور-شنکر پور(قاضی کوریا)باندھ کا ایک بڑا حصہ اچانک م
راگھو پور-شنکر پور ڈیم منہدم، گنگا کی لہر پھر شروع، 2008 کی تباہی کا خطرہ منڈلا رہا ہے


بھاگلپور، 24 اگست (ہ س)۔ ضلع کے نوگچھیا سب ڈویژن کے تحت کھریک بلاک کے جنوبی علاقے میں شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اتوار کی دیر رات گنگا کی سطحِ آب میں اچانک اضافے اور تیز بہاؤ کے باعث راگھو پور-شنکر پور(قاضی کوریا)باندھ کا ایک بڑا حصہ اچانک منہدم ہوگیا۔

عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 200 میٹر طویل باندھ گنگا کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ شدید کٹاؤ کے باعث محکمہ آب وسائل کے کیمپ دفتر کا تقریباً نصف حصہ بھی دریا میں بہہ گیا۔ باندھ ٹوٹنے کی خبر پھیلتے ہی کھریک کے جنوبی علاقے کے درجنوں دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی لوگوں کو 2008 کے تباہ کن سیلاب جیسی صورتحال کا خدشہ ستانے لگا ہے۔

باندھ کے ٹوٹنے کے بعد گنگا کا پانی تیزی سے رہائشی اور زرعی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کھریک بلاک کی نشیبی پنچایتوں کے تحت آنے والے راگھو پور، لوکمان پور، عثمان پور اور تلسی پور سمیت کئی گاؤں سیلاب کے خطرے کی زد میں ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر پانی کا بہاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو علاقے کی 25 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہوسکتی ہے۔ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر کئی دیہات کے لوگ اونچی جگہوں اور قومی شاہراہ کی جانب نقل مکانی کرنے لگے ہیں۔ لوگ اپنے ساتھ اناج، مویشی اور دیگر ضروری سامان لے کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔

نوگچھیا اور کھریک علاقوں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی کیلے کی سیکڑوں ایکڑ فصل بھی سیلابی پانی کی زد میں آنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کی جانب سے کاشت کی گئی دھان، مکئی اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اگر سیلابی پانی نے بڑے پیمانے پر زرعی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو کسانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ آب وسائل کے چیف انجینئر، ایگزیکٹیو انجینئر اور فلڈ فائٹنگ ٹیم کے افسران بڑی تعداد میں اہلکاروں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور وہیں کیمپ کرکے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے سیکڑوں مزدوروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ گنگا کے تیز بہاؤ کا رخ موڑنے اور بند کے باقی حصے کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں این سی بیگز(ریت سے بھری بوریاں)اور درختوں کی بڑی شاخیں استعمال کی جارہی ہیں۔

کھریک کے سرکل افسر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسر نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ انتظامیہ جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔

تاہم گنگا میں مسلسل بڑھتی سطحِ آب اور تیز بہاؤ کے باعث علاقے کے لوگوں میں خوف برقرار ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر پانی کا دباؤ مزید بڑھا تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ انتظامیہ اور محکمہ آب وسائل کی ٹیمیں بند کے باقی حصے کو بچانے اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande