سنی دیول کے مسلم کردار پر تنازع، راج کمار سنتوشی نے توڑی خاموشی
فلم ڈائریکٹر راج کمار سنتوشی نے اپنی حالیہ فلم ’بٹوارہ 1947‘ میں اداکار سنی دیول کو ہندوستانی مسلم کردار میں کاسٹ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ 14 اگست کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے سانحے اور اس دوران عام لوگوں کو پیش آ
سنی دیول کے مسلم کردار پر تنازع، راج کمار سنتوشی نے توڑی خاموشی


فلم ڈائریکٹر راج کمار سنتوشی نے اپنی حالیہ فلم ’بٹوارہ 1947‘ میں اداکار سنی دیول کو ہندوستانی مسلم کردار میں کاسٹ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ 14 اگست کو ریلیز ہونے والی یہ فلم ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے سانحے اور اس دوران عام لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات پر مبنی ہے۔

فلم میں سنی دیول کو مسلم کردار میں دیکھنا اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا کیونکہ وہ بالخصوص حب الوطنی اور ایکشن فلموں کے لیے مشہور ہیں۔راج کمار سنتوشی کے مطابق فلم کا خیال تقریباً 15 سال قبل ان کے ذہن میں آیا تھا۔ اس وقت پاکستان یا مسلم کرداروں سے متعلق کہانی بنانا کافی خطرناک اور چیلنجنگ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں سنی دیول کو ہندوستانی مسلم کردار میں پیش کرنا ان کے لیے بھی ایک مشکل فیصلہ تھا۔ہدایت کار نے بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ سنی دیول اپنی اداکاری کی صلاحیت کے ذریعے اس کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اداکار کی محنت کی بھی بھرپور تعریف کی۔ فلم میں کردار کو حقیقت سے قریب رکھنے کے لیے سنی دیول نے قرآن کی آیات کی تلاوت بھی کی۔فلم کو جہاں کچھ ناظرین کی جانب سے ملی جلی رائے ملی ہے، وہیں مذہبی رہنماؤں نے اس کے اتحاد اور بھائی چارے کے پیغام کو سراہا ہے۔ تاہم ابتدائی ہفتے کے بعد باکس آفس پر فلم کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی۔

اس کے باوجود راج کمار سنتوشی کو امید ہے کہ ناظرین فلم کے بنیادی پیغام سے جڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم کا مقصد کسی مذہب کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بھائی چارے، بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے مذاہب کے احترام کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande