
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔جین -زی کے درمیان اپنی پکڑ کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ اور مکالمہ قائم کرنے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔ پارٹی اب روایتی یک طرفہ پیغام رسانی کے بجائے انسٹا گرام، اسنیپ چیٹ اور ریڈٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرباہمی بات چیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کالجوں، یونیورسٹیوں اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں طلبا سے براہ راست ملاقات کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
نیٹ امتحانات تنازعہ کے بعد طلبا کی تحریک اور نوجوانوں میں پیدا ہونے والے ماحول کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے 14 سے 22 سال کی عمر کے نوجوانوں تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے تمام ریاستوں کی تنظیم کو ہدایات جاری کی گئی ہیں اور یہ مہم سال بھر چلائی جائے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ مہم دو سطحوں پر چلے گی۔پہلا، ڈیجیٹل آو¿ٹ ریچ پروگرام ہوگاجس میںانسٹا گرام، اسنیپ چیٹ اور ریڈٹ جیسے پلیٹ فارم پر نوجوانوں کی زبان اور انداز میں مکالمہ پر توجہ دی جائے گی۔ ٹیکسٹ کی جگہ ریل، شارٹ ویڈیو اور ویژوئل کنٹنٹ پر زور ہوگا۔ نوجوانوں کی رائے اور فیڈبیک حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ مواصلاتی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
اور دوسرا، مرکزی وزرا ، ارکان پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی، تنظیم کے عہدیداراور کارکنان براہ راست اداروں میں بات چیت کریں گے۔ وہ کالجوں، یونیورسٹیوں، اسکولوں، کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اور اسپورٹس کلبوں میں طلبا کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کریں گے۔ مذاکرات کو غیر سیاسی رکھا جائے گا اور پارٹی پرچم اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا کو تقریبات سے دور رکھا جائے گا اور بات چیت کے بعد کوئی عوامی بیان نہیں دیا جائے گا۔طلبا اگر بات چیت یکارڈ کرتے ہیں، تو اس پر روک نہیں ہوگی۔ مکالمے کا طریقہ اور مقام نوجوانوں کی سہولت کے مطابق طے کیا جائے گا۔ امتحانات، نصاب، ملازمت، مسابقتی امتحانات، کرئیر اور مستقبل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس مہم کے تحت طلبہ سے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔ مسائل کے لیے پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے حل پر بات کرنے پر زور دیا جائے گا۔ قومی اور بین الاقوامی مسائل پر نوجوانوں کی رائے جمع کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
نوجوان قیادت کی تیاری پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ پارٹی تنظیم اور حکومت میں مزید نوجوان چہروں کو آگے لانے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے کارکنان ہر اسمبلی حلقہ میں نوجوانوں کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں گے اور تعلیمی اداروں سے مسلسل رابطہ رکھیں گے۔ ذرائع کے مطابق مقامی ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مرکزی سطح کے سینئر لیڈروں کو بھی بڑی یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور بڑے تحقیقی اداروں میں بھیجا جائے گا۔ کوٹا، پٹنہ، پریاگ راج، بنگلورو، وشاکھاپٹنم اور ترواننت پورم جیسے بڑے کوچنگ ہب پر خصوصی توجہ دی جائے گی، کیونکہ پارٹی کا ماننا ہے کہ اساتذہ اور کوچنگ نیٹ ورک بڑی تعداد میں نوجوانوں تک مو¿ثر طریقے سے پہنچتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد