جنین کی جنس کی جانچ سے متعلق معاملات میں پولیس براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس عام طور پر جنین کی جنس معلوم کرنے سے متعلق جرائم کی تفتیش اور ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔ جسٹس سنجے کرول کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس قانون کے تحت مقرر کردہ افسر
جنین کی جنس کی جانچ سے متعلق معاملات میں پولیس براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ


نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس عام طور پر جنین کی جنس معلوم کرنے سے متعلق جرائم کی تفتیش اور ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔ جسٹس سنجے کرول کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس قانون کے تحت مقرر کردہ افسران کو ہی ایسے معاملات میں بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ اس قانون کے تحت پولیس تفتیش کار کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ تاہم، ضرورت پڑنے پر متعلقہ اتھارٹی کی مدد کے لیے پولیس محدود اور معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے اتفاق کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کے معاملات میں پولیس نہ تو تفتیش کر سکتی ہے اور نہ ہی ایف آئی آر درج کر سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس قانون سے متعلق معاملات تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں طبی معلومات اور حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے قانون کے تحت پولیس کو بنیادی تفتیشی ایجنسی نہیں بنایا گیا ہے۔

یہ معاملہ اتر پردیش کے ایک ڈاکٹر سے متعلق تھا، جس کے خلاف 2017 میں پولیس نے پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ ڈاکٹر پر الزام تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر جنین کی جنس معلوم کرکے جوڑوں کو لڑکی کے جنین کو پیدائش سے پہلے ختم کرنے میں مدد کر رہا تھا۔

ڈاکٹر نے ہائی کورٹ میں مقدمہ منسوخ کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ اس قانون کے تحت ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ قانون کی دفعہ 28 کے تحت شکایت درج کرانے کا حق متعلقہ اتھارٹی یا مجاز شخص کو حاصل ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے معاملے میں ایف آئی آر تحصیلدار کی جانب سے درج کی گئی تھی، جسے متعلقہ اتھارٹی نہیں مانا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande