
بھاو نگر، 20 اگست ( ہ س)۔ گجرات میں شراب بندی کے باوجود بھاو نگر شہر اور دیہی علاقوں میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے اب تک 6 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 21 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ گزشتہ رات تک پانچ افراد کی موت ہو چکی تھی۔ آج صبح ایک اور شخص نے دم توڑ دیا۔ تاہم ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس واقعے سے پورے گجرات میں ہلچل مچ گئی ہے۔
معاملے کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے تحقیقات اسٹیٹ مانیٹرنگ سیل (ایس ایم سی) کے حوالے کر دی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر برانڈیڈ رائل اسٹاگ شراب کی خالی بوتلیں، ڈھکن اور اسٹیکر جمع کیے اور ان میں کیمیکل ملا ہوا زہریلا مائع بھر کر نقلی شراب کے طور پر فروخت کیا۔ ایف ایس ایل اور طبی جانچ کے مطابق، زہریلی شراب کی زد میں آنے والے 10 مریضوں کے خون اور پیشاب کے نمونوں میں تقریباً 38.59 فیصد مہلک میتھانول پایا گیا، جبکہ ایتھانول کی مقدار صرف 0.94 فیصد بتائی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، یہ پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر مالی فائدے کے لیے ایک سنڈیکیٹ کے طور پر چلایا جا رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ احمد آباد کے سرخیز علاقے سے سفید مائع، خالی بوتلیں، ڈھکن، اسٹیکر اور میتھانول منگوایا گیا تھا۔ کیمیکل کا مرکب تیار کرنے کے لیے اجین سے نریندر سنگھ عرف ’ڈاکٹر‘ کو بلایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق کیمیکل کا مرکب تیار کرنے والے نریندر سنگھ نے بھی مبینہ طور پر یہی زہریلا مائع پی لیا تھا۔ اس کی طبیعت 17 اگست کو بگڑی اور 18 اگست کو اس کی موت ہو گئی۔
گاندھی نگر سے اسٹیٹ مانیٹرنگ سیل (ایس ایم سی) کے ایس پی میور چاوڑا کی قیادت میں ٹیم بھاو نگر پہنچ گئی ہے۔ ٹیم نے آئی جی جے۔ راجو انصاری کے ساتھ میٹنگ کرکے پورے نیٹ ورک کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔ پولیس اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ زہریلی شراب کے اس نیٹ ورک میں مزید کون کون لوگ شامل ہیں، کیمیکل کہاں سے خریدا گیا اور شراب کی 51 پیٹیاں کن کن علاقوں تک پہنچائی گئی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد