ستیندر جین سمیت پانچ ملزم 14 دن کی عدالتی حراست میں
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ راو¿ز ایونیو کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین سمیت پانچ ملزمان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں گرفتار انکت سریواستو کو دو دن کی اے سی بی حراست میں بھیج دیا ہے۔ ستیندر جین اور دیگر م
ستیندر جین سمیت پانچ ملزم 14 دن کی عدالتی حراست میں


نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔

راو¿ز ایونیو کورٹ نے دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین سمیت پانچ ملزمان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں گرفتار انکت سریواستو کو دو دن کی اے سی بی حراست میں بھیج دیا ہے۔

ستیندر جین اور دیگر ملزمان کو 18 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ستیندر جین کی جانب سے پیش ہوئے وکیل منندر سنگھ نے جین کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستیندر جین کو گرفتار کرتے وقت گرفتاری کی وجہ نہیں بتائی گئی، جو سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔

انسداد بدعنوانی شاخ (اے سی بی) نے ستیندر جین کے علاوہ جن ملزمان کو گرفتار کیا ہے، ان میں دہلی جل بورڈ کے سابق سی ای او ادت پرکاش رائے، دہلی جل بورڈ کے سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکت سریواستو، میسرز اے این انٹرپرائزز کے مالک ناگیندر یادو، میسرز یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راجا کمار ک±را اور میسرز سِریجن ہار کے مالک پنکج ورما شامل ہیں۔

ان ملزمان کو اے سی بی کی اس ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے، جو 11 مئی 2024 کو انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات 7، 7A، 9، 13 اور بھارتی تعزیرات ہند کی دفعات 42، 409، 418 اور 120-B کے تحت درج کی گئی تھی۔

اے سی بی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی شرائط ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے تیار کی گئی تھیں۔

ستیندر جین اکتوبر 2024 میں منی لانڈرنگ کے معاملے میں تہاڑ جیل سے باہر آئے تھے۔ وہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں 872 دن جیل میں رہے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جین کو 30 مئی 2022 کو گرفتار کیا تھا۔ 18 اکتوبر 2024 کو ٹرائل کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande