
بیروت، 16 اگست(ہ س)۔ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچے بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں شہری املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے جنوبی لبنان کے قصبے المنصوری کے مضافات کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ شام کے وقت کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر اس کارروائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے صور شہر کے جنوب میں واقع المشاع کے علاقے میں بھی ایک بڑا دھماکہ کیا۔ یہ علاقہ المنصوری اور مجدل زون کے درمیان واقع ہے۔ دھماکے کی آوازیں صور شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی سنی گئیں۔لبنانی وزارت صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق النبطیہ ضلع کے دیر الزہرانی پر اسرائیلی حملے میں چار افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک بچہ اور 11 خواتین بھی شامل ہیں۔وزارت کے مطابق انصار قصبے میں اسرائیلی حملے کے متاثرین کو بھی مجموعی اعداد میں شامل کرنے کے بعد ہفتے کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 11 جبکہ زخمیوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مسلسل فضائی اور فوجی کارروائیوں نے علاقے میں شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان ڈورون سپلزمین نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں لبنان کے ساتھ زیادہ سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں اسرائیلی ترجمان نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو مذاکرات کو آگے بڑھانے اور انہیں مزید سنجیدہ بنانے میں مدد دینی چاہیے، نہ کہ مذاکراتی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنی چاہیے۔تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا تسلسل اور دوسری جانب حزب اللہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی سفارتی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ خطے میں تازہ صورتحال نے جنگ بندی اور طویل مدتی امن کے امکانات پر بھی نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan