وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو نہیں بلکہ علیحدگی پسندی اور شمال مشرق کو ملک سے الگ کرنے والوں کو ’دماغی نکسل‘ کہا: کرن رجیجو
نئی دہلی، 16 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’دماغی نکسل‘ نہیں کہا، بلکہ یہ اصط
وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو نہیں بلکہ علیحدگی پسندی اور شمال مشرق کو ملک سے الگ کرنے والوں کو ’دماغی نکسل‘ کہا: کرن رجیجو


نئی دہلی، 16 اگست (ہ س)۔

مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’دماغی نکسل‘ نہیں کہا، بلکہ یہ اصطلاح ماؤ نوازوں، علیحدگی پسندوں اور بھارت کو توڑنے کی نظریہ رکھنے والوں کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ماؤ ازم کی حمایت کرنے، بھارتی آئین کو مسترد کرنے، علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور دفعہ 370 کی حمایت کرنے والے لوگوں کے علاوہ شمال مشرقی بھارت کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ’دماغی نکسل‘ کہا گیا ہے۔

اپنی پوسٹ کے ساتھ رجیجو نے شرجیل امام کے ایک پرانے بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں شمال مشرقی بھارت کو ملک سے الگ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

دراصل وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یوم آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کا اشارہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف تھا۔

رجیجو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کو ’ذہنی نکسل‘ نہیں کہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جو ماؤ نواز نظریے کی حمایت کرتے ہیں، آئین کو مسترد کرتے ہیں یا ملک کی اتحاد و سالمیت کے خلاف علیحدگی پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande