اوبی سی کے لیے مردم شماری میں الگ خانہ ضروری وڈیٹیوار
او بی سی کے لیے الگ خانہ شامل نہیں کیا گیا توذات پر مبنی مردم شماری نامکمل ہوگی، حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کی اپیل ممبئی ، 16 اگست (ہ س) قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار نے کہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری او بی سی سماج کے حقو
Govt Anti OBC No Separate Column


او بی سی کے لیے الگ خانہ شامل نہیں کیا گیا توذات پر مبنی مردم شماری نامکمل ہوگی، حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کی اپیل

ممبئی ، 16 اگست (ہ س) قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار نے کہا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری او بی سی سماج کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے جاری مردم شماری کے سوالنامے میں او بی سی کے لیے الگ خانہ شامل نہیں کیا گیا تو یہ مردم شماری نامکمل رہے گی۔ صرف ذات سے متعلق معلومات حاصل کرنے سے او بی سی کی حقیقی آبادی سامنے نہیں آسکتی۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کہ او بی سی نے اپنی لڑائی جیت لی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ او بی سی کے لیے الگ خانہ شامل کیے جانے تک حکومت پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔

وڈیٹیوار نے کہا کہ ملک میں متعدد ذاتیں اور ذیلی ذاتیں ہیں اور ایک ہی ذات یا برادری کا اندراج مختلف ریاستوں میں مختلف زمروں میں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے بنجارہ سماج کو بعض ریاستوں میں مختلف زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ تیلی سماج کو بعض دیگر ریاستوں میں درج فہرست قبائل کا درجہ حاصل ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف ذات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے سماجی، تعلیمی اور اقتصادی صورتحال کی درست تصویر سامنے نہیں آسکتی۔ ان کے مطابق او بی سی کے لیے مردم شماری میں الگ خانہ شامل ہونے کی صورت میں ہی یہ عمل حقیقی معنوں میں کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹر حکومت او بی سی کے مسائل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے اور گزشتہ چند ماہ کے واقعات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق او بی سی ذیلی کمیٹی کے اب تک صرف 2 اجلاس ہوئے ہیں۔ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیے جانے کے باوجود مزید میٹنگیں نہیں کی جارہی ہیں۔ او بی سی رہنماؤں کی تجاویز سننے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت میں سیاسی ارادے کی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت او بی سی مخالف ہے۔

وڈیٹیوار نے مقامی خود اختیاری اداروں میں ریزرویشن کے مسئلے پر بھی حکومت سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ فرضی ذات سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نشستوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں کئی معاملات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ او بی سی سماج کے مختلف طبقات کو انصاف دلانے کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر کے او بی سی رہنماؤں کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

وڈیٹیوار نے کمبھ میلے کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مہاراشٹر کی سڑکوں کی حالت خراب ہے، کئی اسکولوں میں اساتذہ اور کلاس رومز کی کمی ہے اور نوجوان روزگار کا مطالبہ کررہے ہیں، تو دوسری جانب اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی ضرورت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمبھ میلے کے بارے میں ایک کتابچہ بھی شائع کیا ہے۔ وڈیٹیوار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سرکاری رقم سے حکومت کی تعریف کرنے کے بجائے کتابچے میں کمبھ میلے پر ہونے والے اخراجات، مبینہ بدعنوانی، کاموں سے فائدہ اٹھانے والوں، مبینہ طور پر کن افراد کے رشتہ داروں کو ٹھیکے دیے گئے اور سرکاری فنڈ کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معلومات بھی شائع کی جانی چاہئیں۔

وڈیٹیوار نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمبھ میلہ عقیدت مندوں کے لیے عقیدت میں ڈبکی لگانے اور حکومت کے لیے بدعنوانی میں ڈبکی لگانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande