دہلی میں پانچ مقامات پر بم کی اطلاع سے ہلچل، جانچ کے بعد تمام کالیں فرضی نکلیں
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ یومِ آزادی سے عین قبل جمعہ کو دہلی میں ایک کے بعد ایک پانچ مقامات پر بم ہونے کی اطلاع ملنے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں ہلچل مچ گئی۔ دہلی کینٹ ایس ڈی ایم دفتر، ٹی3- ایئرپورٹ، جام نگر ہاؤس، ساکیت ایس ڈی ایم دفتر اور جھنڈے والان
دہلی میں پانچ مقامات پر بم کی اطلاع سے ہلچل، جانچ کے بعد تمام کالیں فرضی نکلیں


نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔

یومِ آزادی سے عین قبل جمعہ کو دہلی میں ایک کے بعد ایک پانچ مقامات پر بم ہونے کی اطلاع ملنے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں ہلچل مچ گئی۔ دہلی کینٹ ایس ڈی ایم دفتر، ٹی3- ایئرپورٹ، جام نگر ہاؤس، ساکیت ایس ڈی ایم دفتر اور جھنڈے والان میں بم ہونے کی اطلاع فائر کنٹرول روم کو موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور تفصیلی تلاشی لی۔ جانچ کے بعد پانچوں مقامات پر بم کی اطلاعات فرضی(ہاکس) ثابت ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق، جمعہ کی صبح تقریباً 11:18 بجے دہلی کینٹ واقع ایس ڈی ایم دفتر میں بم ہونے کی اطلاع فائر کنٹرول روم کو ملی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور احاطے کی مکمل تلاشی لی۔ اس کے بعد صبح 11:32 بجے دہلی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-3 پر بم ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔ ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں فوری طور پر متحرک ہوگئیں۔ بم اسکواڈ اور دیگر ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر جانچ کی۔

اس کے بعد تقریباً 11:40 بجے جام نگر ہاؤس میں بم ہونے کی اطلاع ملی۔ یہاں بھی سکیورٹی ٹیموں نے پہنچ کر احاطے اور آس پاس کے علاقے کی تلاشی لی۔ تقریباً دو منٹ بعد 11:42 بجے ساکیت ایس ڈی ایم دفتر میں بم کی اطلاع موصول ہوئی۔ وہیں تقریباً 11:57 بجے جھنڈے والان میں بھی بم ہونے کی اطلاع فائر کنٹرول روم کو دی گئی۔مسلسل موصول ہونے والی ان اطلاعات کے بعد پولیس اور فائر بریگیڈ نے تمام مقامات پر سکیورٹی جانچ کی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر مشتبہ اشیا اور احاطے کی تلاشی لی۔ جانچ کے دوران کسی بھی مقام سے بم یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ اس کے بعد پانچوں کالز کو فرضی اطلاع قرار دے دیا گیا۔

یومِ آزادی سے قبل دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سخت ہیں۔ ایسے میں مختلف مقامات پر بم کی اطلاعات ملنے کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر چوکس ہوگئیں۔ پولیس اب ان فرضی کالز کرنے والے شخص یا ذرائع کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande