
گوہاٹی، 14 اگست (ہ س)۔
آسام میں سیلاب کا قہراب آہستہ آہستہ کم ہورہا ہے۔ اب بھی 370 گاوں کے 77542 شہری متاثر ہیں۔ سیلاب سے ہوئے نقصانات کی بحالی میں بہتری کے درمیان دھنسری ندی (نملی گڑھ) خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ متاثرہ لوگ امدادی کیمپوں سے اپنے گھروں کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔ تباہ شدہ رہائشی ڈھانچوں اور بچے ہوئے مکانات کی مرمت نیز صاف صفائی کا کام بھی تیز رفتاری سے چل رہا ہے۔ متاثرین کی مدد کا کام سرکاری اور نجی سطح پر بھی زور و شور سے جاری ہے۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے 13 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی طغیانی پر ہے۔ ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 104 درج کی گئی ہے۔ اس وقت 7 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں گولا گھاٹ، شیوساگر، نگاوں، ہوجائی، جو رہاٹ، درنگ اور لکھیم پور شامل ہیں۔ سیلاب سے ان اضلاع کے 22 ریونیو سرکلوں کے کل 370 گاوں متاثر ہیں۔ اس وقت ریاست کی کل 77542 آبادی ابھی بھی متاثر ہے اور 9908.85 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
سیلاب متاثرین کے لیے ابھی بھی 38 امدادی کیمپ اور 32 امدادی تقسیم مراکز فعال ہیں۔ ان میں 6639 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ شیوساگر ضلع میں مکمل طور پر تباہ شدہ کچے مکانات کی کل تعداد 125 ہے۔ اس ضلع میں 10 پکے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب میں امدادی و بچاو مہم میں ایس ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، پولیس، فائر بریگیڈ اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف اینڈ ای ایس)، سرکل آفس/مقامی انتظامیہ اور سول ڈیفنس/تربیت یافتہ رضاکار جٹے ہوئے ہیں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں جمعرات کے روز ریاستی حکومت نے کل 59 میڈیکل ٹیمیں تعینات کی ہیں۔ اس دوران پانچ کشتیاں بھی امدادی کام میں مصروف رہیں۔ اس بیچ کشتیوں کے ذریعے سیلاب متاثرہ 119 افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت مسلسل جائزہ میٹنگیں کر کے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن