
سرینگر، 10 اگست،( ہ س): گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ سے سری نگر ریفر کیے گئے ایک نو سالہ لڑکے کو مبینہ طور پر ایک نجی گاڑی میں سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ ایمبولینس دستیاب نہیں تھی۔ بچے کے والدین 108 ایمرجنسی سروس کے ذریعے ایمبولینس حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس نے ٹرسٹیری کیئر اسپتال میں ایمرجنسی ریفرل ٹرانسپورٹ کے سہلوت کی قلعی کھول دی ہے۔ اس بچےکی شناخت موسیٰ کے طور پر ہوئی ہے، جو کوکرناگ کا رہنے والا ہے، ابتدائی طور پر سیڑھیوں سے گرنے اور اس کے بعد اسے مسلسل الٹی ہونے کے بعد کوکرناگ کے ایک صحت مرکز میں لے جایا گیا تھا۔ بعد میں اسے مزید جانچ اور علاج کے لیے جی ایم سی اننت ناگ ریفر کیا گیا۔ بچے کا معائنہ کرنے کے بعد، جی ایم سی اننت ناگ کے ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اسے مزید علاج کے لیے سری نگر لے جائیں۔ بچے کے والدین کے مطابق، انہوں نے کئی بار 108 ایمبولینس سروس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہاتھ لگی۔ ایمبولینس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خاندان نے بچے کو سری نگر لے جانے کے لیے ایک نجی گاڑی کا انتظام کیا۔ اس واقعے نے جی ایم سی اننت ناگ میں فعال ہنگامی ایمبولینسوں کی دستیابی پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے جنہیں فوری طور پر اعلیٰ مراکز میں ریفرل کی ضرورت ہوتی ہے۔
رابطہ کرنے پر جی ایم سی اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر جنید ایس وانی نے تسلیم کیا کہ اسپتال میں تین ایمبولینسیں ہیں، جن میں سے دو کی فی الحال مرمت کرائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وانی نے اس معاملہ کی بذات خود جانچ کرنے کی بات کہی ہے۔ بچے کے ساتھ آنے والے ایک اٹینڈنٹ نے اسپتال میں ہنگامی نقل و حمل کی سہولیات پر سوال اٹھایا، کہا کہ تین سے زیادہ اضلاع کے مریضوں کی خدمت کرنے والے ایک بڑے ہیلتھ کیئر ادارے کے پاس کئی ایمبولینس ہونی چاہئیں۔
نئی عمارتوں اور پی ایچ سی کا افتتاح کرنے کے بجائے موجودہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یانتہائی افسوسناک ہے کہ جی ایم سی اننت ناگ، جو تین سے زیادہ اضلاع کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے، میں صرف ایک ایمبولینس کام کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مداخلت کرے اور جی ایم سی اننت ناگ میں ایمبولینس کی مناسب سہولیات کو یقینی بنائے، خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے جنہیں ایمرجنسی ریفرل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir