لوک سبھا اسپیکر نے تعطل ختم کرنے کی اپیل کی
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پیر کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ میں جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان میں جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے کہا کہ عوام کی آواز ایوان میں سنائی دینی
لوک سبھا اسپیکر نے تعطل ختم کرنے کی اپیل کی


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پیر کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ میں جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان میں جاری تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے کہا کہ عوام کی آواز ایوان میں سنائی دینی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق بی اے سی کی میٹنگ میں اسپیکر نے تمام جماعتوں سے مل کر تعطل ختم کرنے کا راستہ نکالنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ سوالیہ وقفے میں اہم بلوں پر بحث کے لیے جتنا وقت مانگا جائے گا، اتنا دیا جائے گا۔ عوامی مسائل کو ایوان کی راہداریوں میں انتظار کرتے ہوئے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ان مسائل کی آواز اسی ایوان میں اٹھنی چاہیے۔ ان پر بحث ہونی چاہیے اور ان کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ ارکان کی مؤثر شرکت ہو اور ایوان کی بامعنی اور تعمیری بحث کو ملک سنے، اس سمت میں سبھی غور کریں۔ لوک سبھا اسپیکر نے تمام جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سب کے تعاون سے ایوان کی کارروائی ہموار، منظم اور باوقار انداز میں چلائی جائے، تاکہ عوامی مفاد سے متعلق اہم موضوعات پر وسیع اور بامعنی بحث ہو سکے۔

مانسون اجلاس شروع ہوئے دو ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن دونوں ایوانوں میں تعطل جاری ہے۔ ایوان کی کارروائی کو ہموار طریقے سے چلانے کے لیے تشکیل دی گئی بی اے سی میں بھی اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے دو بلوں کو پارلیمانی جانچ کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل، 2026 اور مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اپوزیشن نے طلبہ کے احتجاج اور مبینہ ’رام مندر چڑھاواچوری‘ کے معاملے پر بھی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک اس کے دونوں مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دے گا۔

بتایا جا رہا ہے کہ حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر بحث کے لیے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس میں وزیر داخلہ کی جانب سے جواب دیے جانے کی بات ہے۔ تاہم، اپوزیشن دونوں معاملات پر بحث کرانے کے مطالبے پر بضد ہے۔ وہیں بی اے سی کی میٹنگ میں ایف سی آر اے بل یا حد بندی بل کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande