حیدرآباد میں آرسی اور ڈرائیونگ لائسنس اسمارٹ کارڈز کی فراہمی میں تاخیر
حیدرآباد ، 10 اگست (ہ س)۔ شہر میں محکمہ نقل و حمل کے دفاترسے گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آر سی) اور ڈرائیونگ لائسنس (ڈی ایل) کے اسمارٹ کارڈزبروقت جاری نہ ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں، جس کے باعث گاڑی مالکان کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حیدرآباد میں آرسی اور ڈرائیونگ لائسنس اسمارٹ کارڈز کی فراہمی میں تاخیر،


حیدرآباد ، 10 اگست (ہ س)۔ شہر میں محکمہ نقل و حمل کے دفاترسے گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آر سی) اور ڈرائیونگ لائسنس (ڈی ایل) کے اسمارٹ کارڈزبروقت جاری نہ ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں، جس کے باعث گاڑی مالکان کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عام طور پرگاڑی کی رجسٹریشن یا ڈرائیونگ لائسنس کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسمارٹ کارڈ تین دن سے ایک ہفتے کے اندردرخواست گزار کے رجسٹرڈ پتے پرپہنچ جاناچاہیے۔ تاہم متعدد گاڑی مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اپنے کارڈز موصول نہیں ہوئے۔

کارڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث شہریوں کو اپنے روزمرہ کے کام چھوڑکرباربار متعلقہ محکمہ نقل و حمل کے دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔

میڑچل ضلع کے مرکزی محکمہ نقل و حمل دفتر میں بھی کئی گاڑی مالکان نے شکایت کی ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنے آرسی اورڈرائیونگ لائسنس کارڈز کے حصول کے لیے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ متاثرین کے مطابق عہدیداروں کی جانب سے انہیں بتایا جاتا ہے کہ اب مکمل عمل مرکزی آن لائن نظام کے ذریعے انجام دیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے کارڈ جاری ہونے میں تاخیر ہورہی ہے۔

تاہم گاڑی مالکان نے اس وضاحت پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عام شہریوں کو کارڈ کے حصول کے لیے کئی ہفتوں تک انتظار کرنا پڑرہاہے، جبکہ بعض افراد مبینہ طور پرایجنٹوں کے ذریعے ایک ہفتے کے اندراسمارٹ کارڈ حاصل کررہے ہیں۔

ڈرائیونگ لائسنس کے معاملے میں بھی بعض ڈرائیونگ اسکولوں پر مبینہ طور پرالزام ہے کہ وہ تربیت کے ساتھ لائسنس کارڈ دلانے کے نام پر5,000 روپے تک وصول کررہے ہیں۔

یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ ڈاک کے ذریعے گاڑی مالکان کے پتے پر پہنچنے والے کارڈ بعض مبینہ ایجنٹ اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اوربعد میں وہی کارڈ براہ راست متعلقہ افراد کے حوالے کرتے ہیں۔

گاڑی مالکان نے الزام عائد کیا ہے کہ اس پورے عمل کی نگرانی کے ذمہ دار بعض عہدیدار مبینہ شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کررہے۔

گریٹرحیدرآباد میں محکمہ نقل و حمل کے 12 دفاتر موجود ہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق بعض دفاتر میں تقریباً 17 ہزاراسمارٹ کارڈز کی طباعت ابھی باقی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق ہردفتر میں روزانہ تقریباً80 سے 200 گاڑیاں رجسٹریشن کے لیے پہنچتی ہیں۔ ایسے میں اسمارٹ کارڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث زیرالتوا درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

خاص طور پرمیڑچل کے مرکزی دفتر میں مبینہ ایجنٹوں کی سرگرمیوں پر گاڑی مالکان نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بعض ایجنٹ دفتر میں اس طرح کام کرتے ہیں جیسے وہ محکمہ نقل و حمل کے غیر سرکاری نمائندے ہوں۔

متاثرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی خدمات بروقت حاصل کرنا یا اسمارٹ کارڈ فوری طور پر حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے مبینہ طور پر ایجنٹوں کو اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

ایک متاثرہ شخص سری نواس نے بتایا کہ اسے میڑچل دفتر میں گاڑی کی رجسٹریشن کرائے ہوئے دو ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اس کی آرسی گھر نہیں پہنچی۔ اس نے بتایا کہ معلومات حاصل کرنے پر اسے کہا گیا کہ کارڈ ابھی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔ گاڑی مالکان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ کارڈز کی طباعت، ترسیل اور تقسیم کے پورے عمل کی شفاف نگرانی کی جائے، زیر التوا کارڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور ایجنٹوں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ شہریوں کو اپنے جائز دستاویزات کے حصول کے لیے بار بار محکمہ نقل و حمل کے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande