جموں سول سیکریٹریٹ کے باہر یومیہ مزدوروں کا حکومت کے خلاف احتجاج
جموں, 10 اگست (ہ س): جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے یومیہ مزدوروں نے پیر کو آل ڈیلی ویجرز سنگھرش کمیٹی کے بینر کے تحت سول سکریٹریٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کم از کم اجرت اور مستقل کئے جانے پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا۔ مڈ
Protest


جموں, 10 اگست (ہ س): جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے یومیہ مزدوروں نے پیر کو آل ڈیلی ویجرز سنگھرش کمیٹی کے بینر کے تحت سول سکریٹریٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کم از کم اجرت اور مستقل کئے جانے پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا۔ مڈ ڈے میل کُک مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محض 30 روپے یومیہ اجرت دی جا رہی ہے، جس میں موجودہ مہنگائی کے دور میں گزارا کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 900 روپے ماہانہ اجرت بھی کئی ماہ کی تاخیر کے بعد ادا کی جاتی ہے۔

ان مزدوروں نے مطالبہ کیا کہ ان کی اجرت میں اضافہ کرکے انہیں کم از کم اجرت قانون کے دائرے میں لایا جائے اور 10 سے 15 برس سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔احتجاج کے پیش نظر سول سکریٹریٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور مظاہرین کو سکریٹریٹ کے قریب ہی روک دیا گیا۔

کمیٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر سنی کانت چِب نے کہا کہ یومیہ مزدور بارہا اپنی مشکلات حکام کے سامنے رکھ چکے ہیں، تاہم انہیں یقین دہانیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر فوری کارروائی نہیں کی تو جموں سے دہلی تک پُرامن احتجاجی تحریک چلانے کے ساتھ پورے جموں و کشمیر میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande