علی خامنہ ای کا جسد خاکی عراق سے ایران پہنچا، مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا
تہران، 9 جولائی (ہ س) رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہر نجف اور کربلا میں رسومات کے بعد تدفین کے لیے خصوصی طیارے کے ذریعے ایران کے شہر مشہد پہنچ گیا ہے۔ یہ طیارہ نجف کے ہوائی اڈے سے جمعرات کو مشہد ک
جنازہ


تہران، 9 جولائی (ہ س) رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہر نجف اور کربلا میں رسومات کے بعد تدفین کے لیے خصوصی طیارے کے ذریعے ایران کے شہر مشہد پہنچ گیا ہے۔ یہ طیارہ نجف کے ہوائی اڈے سے جمعرات کو مشہد کے لیے روانہ ہواتھا۔ تجہیز و تکفین مشہد مقدس میں روضہ امام رضا میں کی جائے گی۔

ایران کی تسنیم اور مہر خبررساں ایجنسیوں کے مطابق جنازے کے منتظمین نے اطلاع دی ہے کہ مشہد میں میت کی آمد میں کئی گھنٹے تاخیر ہوئی ہے۔ کربلا میں سوگواروں کے ہجوم کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ چنانچہ مشہد میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے جنازے کا آغاز ہونا تھا جسے دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق نجف میں مرحوم رہنما کے جنازے میں 38 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ خامنہ ای کی میت کو عرب روڈ کے راستے کربلا لے جایا گیا۔ عراق میں جنازے کی رسومات تہران اور قم کے بعد ادا کی گئیں۔ عراقی مذہبی رہنماو¿ں کی درخواست پر ان کی میت کو عراق روانہ کیا گیاتھا۔

عراق کے اعلیٰ شیعہ عالم آیت اللہ علی السیستانی کے نمائندے شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ عراق میں بدھ کو عام تعطیل تھی۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی فوجی حملہ میں شہید ہو گئے تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande