

جکارتہ (انڈونیشیا)، 8 جولائی ( ہ س) : ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ انڈونیشیا کے ایک تاریخی اور ہزار سال پرانے پرمبانن مندر کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر پوجا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ بھگوان شیو سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے قبل، وزیر اعظم مودی نے 'ایکس' پر جاوا جزیرے کے یوگیاکارتا میں پرمبانن مندر کا ایک فضائی منظر شیئر کیا۔
انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی انترا نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم مودی اور سوبیانتو نے پرمبانن مندر کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے منگل کو ارادے کے خط کا تبادلہ کیا۔ مندر کے احاطے میں پوجا سے متعلق ویڈیو میں وزیر اعظم کہہ رہے ہیں، مجھے ہمیشہ بھگوان شیو کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں جڑنے کا موقع ملا ہے۔ سومناتھ، کاشی وشوناتھ، کیدارناتھ دھام اور اجین کے مہاکال مندر کے بعد، پرمبانن مندر کو ترقی دینے کا موقع ملنا میری خوش قسمتی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پرمبانن مندر دونوں ممالک کے مشترکہ ورثے کی علامت ہے۔ یہ مندر ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ منصوبہ ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور ثقافتی سفارت کاری کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں تاریخی اور شہری تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ مندر کی تزئین و آرائش دونوں ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔
آج ہندوستانی وزیر اعظم مودی کے انڈونیشیا کے دورے کا تیسرا اور آخری دن ہے۔ وہ شام کو انڈونیشیا سے آسٹریلیا کے میلبورن کے لیے روانہ ہوں گے۔ پرمبانن، جو نویں صدی میں بنایا گیا تھا، ایک بڑا ہندو مندر کمپلیکس ہے۔ اسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ مندر برہما، وشنو اور مہیش کے لیے وقف ہے۔ اس مندر کا اصل سنسکرت نام شیو گرہ ہے۔ یہاں کا مرکزی شیو مندر 47 میٹر اونچا ہے۔ ان مندروں کو 2006 میں جاوا میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ایک ہزار سال پرانے مندر کے تحفظ اور بحالی میں مدد کرنے کا اعلان کیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا انڈونیشیا کے حکام کے ساتھ مل کر اس ورثے کو محفوظ رکھے گا۔
انڈونیشیا کے صدر نے سب سے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم مودی کو ہیلی کاپٹر میں پرمبانن مندر کے احاطے کا فضائی دورہ کرایا۔ دونوں رہنماؤں اور تین دیگر مسافروں کو لے جانے والے صدارتی ہیلی کاپٹر نے یوگیاکارتا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور تاریخی ہندو کمپلیکس کے اوپر دو چکر لگانے کے بعد قریبی ایئر بیس پر اترا۔ وہاں سے انڈونیشیائی صدر اور وزیر اعظم مودی سڑک کے راستے پرمبانن مندر پہنچے۔ راستے میں بچوں نے ہاتھ میں جھنڈے لے کر ان کا استقبال کیا۔ مندر کے احاطے میں انڈونیشیا کے وزیر ثقافت فدلی زون نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا۔ اس کے بعد پرابوو اور مودی نے رامائن پر مبنی رقص کی پیشکش دیکھی۔
وزیر فدلی زون نے دونوں رہنماؤں کو قدیم مقام پر جاری تحفظ کے کاموں سے آگاہ کیا۔ صدر پرابوو نے پھر ریاستی مہمان، وزیر اعظم مودی کو کابینہ سکریٹری ٹیڈی اندرا وجیا کی بگی کار میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ اس مندر کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی دیواروں اور پتھروں پر رامائن کے مناظر کو خوبصورتی سے تراشا گیا ہے۔ رامائن اب بھی اس کے مرکزی صحن میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسے جنوب مشرقی ایشیا میں کلاسیکی ہندو فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس مقام کو 1998 میں انڈونیشیا کی قومی ثقافتی ملکیت بھی قرار دیا گیا ہے۔
2014 سے ہندوستان ایشیا کے کئی ممالک کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ویتنام کے یونیسکو میں درج مائی سن ٹیمپل کمپلیکس کی بحالی، سری لنکا کے تروکیتھیشورم مندر کا تحفظ، میانمار کے باغان آثار قدیمہ زون میں زلزلے سے تباہ شدہ یادگاروں کی مرمت، اور نیپال میں 28 ثقافتی مقامات کی تعمیر نو جیسے منصوبے اس مہم کا حصہ ہیں۔ بھارت نے بحرین میں شری ناتھ جی مندر، بنگلہ دیش میں رمنا کالی مندر اور دیگر مذہبی مقامات کی تعمیر نو میں بھی مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد