امریکہ نے ایران کے 80 مقامات پر تیز رفتار حملے کئے
۔ صدر پیزشکیان عراق سے واپس وطن روانہ، خامنہ ای کا جسد خاکی نجف میں موجود ہے واشنگٹن/ تہران، 08 جولائی (ہ س)۔ امریکی سیکورٹی فورسز نے ایران میں 80 مقامات پر سلسلہ وار حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین بحری جہازوں پر ایرانی حملوں
Iran-80-sites-US-attack


۔ صدر پیزشکیان عراق سے واپس وطن روانہ، خامنہ ای کا جسد خاکی نجف میں موجود ہے

واشنگٹن/ تہران، 08 جولائی (ہ س)۔ امریکی سیکورٹی فورسز نے ایران میں 80 مقامات پر سلسلہ وار حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے ایکس ہینڈل پر اس کی تصدیق کی۔ سینٹ کام نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے 7 جولائی (مقامی وقت) کو ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کا ایک نیا دور مکمل کیا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر ایران کے تازہ حملوں کے خلاف سخت ردعمل دیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے 80 سے زائد ایرانی اہداف کو درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

سینٹ کام نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی راڈار سائٹس، اینٹی شپ میزائل کی صلاحیتوں اور 60 سے زیادہ اسلامی انقلابی گارڈ کور کی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ گلف نیوز نے رپورٹ کیا کہ حملوں کے بعد امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تہران نے کہا کہ وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ امریکہ نے 17 جون کو ہونے والے عبوری امن معاہدے کے تحت تہران کو تیل کی فروخت کی چھوٹ فوری طور پر منسوخ کر دی ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب ایران میں سپریم لیڈر مرحوم علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ تہران پہلے ہی سوگ کے دوران حملوں کے خلاف وارننگ جاری کر چکا ہے۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو رہنماو¿ں نے انقرہ میں آبنائے ہرمز پر سیکورٹی خدشات پر تبادلہ خیال کیا۔ خامنہ ای کے جسد خاکی کو نماز جنازہ کے لیے عراق کے مقدس شہر نجف لے جایا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق، تازہ ترین حملے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں جس کا مقصد 28 فروری سے شروع ہونے والی لڑائی کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ ایرانی تیل کی خریداری پر امریکی پابندیاں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے نافذ ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی فوجی حملے کے بعد، واشنگٹن نے معاہدے کی چھوٹ کے طور پر ایرانی تیل کی عارضی فروخت کی کم از کم دو بار منظوری دی ہے۔

دریں اثناءایرانی صدر مسعود پیزشکیان جو عراق کے شہر نجف میں تھے ،امریکی حملے کی اطلاع ملنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ ایران کی اعلیٰ قیادت اس وقت اپنے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں مصروف ہے۔ خامنہ ای کا جسد خاکی نجف میں ہے۔ انہیں جمعرات کو ایران کے شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی ایکس پوسٹ اور امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹوں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان عراق سے تہران واپس آرہے ہیں۔ صدر ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے نجف گئے تھے۔ خامنہ ای کا جسد خاکی منگل کو نجف پہنچا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان عراق کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بدھ کی صبح (مقامی وقت کے مطابق) نجف سے روانہ ہو گئے۔

پیزشکیان کی واپسی سوگ میں ڈوبے ملک میں امریکی حملوں کے درمیان ہوئی ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کرے گا۔ کمانڈ نے کہا کہ ایران کی جارحیت جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران میں بندر عباس کے مشرق اور مغرب میں سیریک، قشم میں بھی دھماکے ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پروجیکٹائل (میزائل یا راکٹ) سرک بندرگاہ پر تجارتی اور ماہی گیری کے گھاٹوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو ایران کو جون میں جاری کیا گیا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔

ایران نے کہا کہ امریکہ نے لائسنس منسوخ کر کے ایم او یو کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ دریں اثنا، ایرانی صدر پیزشکیان نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یادگاری تقریبات کی میزبانی پر عراقی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس تقریب کو دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کا عکاس قرار دیا اور کئی شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande