
بیجنگ/تائپے، 4 جولائی (ہ س)۔
چین نے ہفتے کے روز تائیوان کے مشرقی سمندر میں کوسٹ گارڈ کی نئی گشت شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بارے میں تائیوان اور کئی مغربی ممالک کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ چینی فوج تائیوان کے ارد گرد تقریباً روزانہ آپریشن کرتی ہے، جسے بیجنگ اپنا علاقہ سمجھتا ہے، لیکن چین نے اپنے علاقائی دعوو¿ں کو نافذ کرنے کے لیے کوسٹ گارڈ کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی کوسٹ گارڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی ٹاسک فورس خطے میں قانون نافذ کرنے والے گشت کرے گی اور ان سمندری علاقوں میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرے گی جن کا بیجنگ اپنے دائرہ اختیار کے طور پر دعویٰ کرتا ہے۔ چین نے کہا کہ اس کا مقصد اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
دریں اثنا، تائیوان کے کوسٹ گارڈ نے بتایاکہ اس نے دو چینی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے دو بحری جہاز تعینات کیے ہیں۔ چینی جہاز ہوالین کے مشرق میں تقریباً 54 سمندری میل کے فاصلے پر دیکھے گئے ، حالانکہ وہ تائیوان کی محدود سمندری حدود سے باہر تھے۔
تائیوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے علاقائی پانیوں میں دراندازی کی کوشش کرنے والے کسی بھی چینی جہاز کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ اس سے قبل تائیوان نے اپنے بحری جہازوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ بحری جہازوں کے معائنہ یا بورڈنگ کے لیے چینی مطالبات کو قبول نہ کریں۔
تقریباً ایک ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے جب چین نے تائیوان کے مشرقی ساحل سے سمندر میں کوسٹ گارڈ کے جہاز بھیجے ہیں۔ اس سے ایک سفارتی تنازعہ بڑھنے کا خطرہ ہے جس نے امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے۔ چین نے کہا کہ پہلا آپریشن، جون میں کیا گیا، جاپان اور فلپائن کی جانب سے اپنی سمندری حدود پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کے جواب میں تھا۔ بیجنگ کا خیال تھا کہ اس میں تائیوان کے قریب چینی پانی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ