
حیدرآباد ،4 جولائی (ہ س)۔
بی آرایس کے سینئرقائد شیخ عبداللہ سہیل نے رائے درگ میں جامعہ نظامیہ کی قیمتی وقف اراضی کی نیلامی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی عدالتی تحقیقات کرانے اوروائیٹ پیپرجاری کرنے کا کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا۔اقلیتی ادارے کی 1490 کروڑ روپئے کی اراضی کو ہڑپ لینے کا الزام عائد کیا اور وقف بورڈکی خاموشی کوتنقید کانشانہ بنایا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت کی جانب سے جامعہ نظامیہ کی اس وقف اراضی کو نیلام کرنے کے اقدام پرشدید نکتہ چینی کی۔اس پورے معاملے کی ہائی کورٹ کے برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اورکہاکہ جب تک زمین کی حقیقی وقف حیثیت کا آزادانہ طورپرتعین نہیں ہوجاتا تب تک اس کی منتقلی،رجسٹریشن یاکسی بھی قسم کی قانونی کارروائی پر فوری روک لگائی جائے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے انکشاف کیاکہ کانگریس حکومت نے(ٹی جی آئی آئی سی) کے ذریعہ اس قیمتی زمین کوتقریباً 237 کروڑروپئے فی ایکڑکے حساب سے نیلام کیاہے جس سے حکومت کو1490 کروڑ روپئے حاصل ہونے کی اطلاع ہے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ سیکولراوراقلیت نواز ہونے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس حکومت مذہبی،تعلیمی اوروقف کردہ جائیدادوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان اراضیات کو فروخت کرکے پیسہ کمانے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ اگرحکومت خود اوقافی اراضی ہزاروں کروڑ میں فروخت کرے گی تو پھرتلنگانہ میں وقف بورڈ کوبرقراررکھنے کا مقصد ہی کیارہ جاتاہے۔ بی آرایس کے قائد نے کہاکہ جامعہ نظامیہ اوروقف کے پاس اس قیمتی اراضی کے تاریخی اورمستندریکارڈموجود ہیں ۔ جن میں کتاب الاوقاف،وقف نامہ کے اندراج اورخودوقف بورڈ کے پرانے گزٹ نوٹیفکیشن شامل ہیں جوثابت کرتے ہیں کہ یہ اراضی ملک کے قدیم ترین اورمعتبراسلامی تعلیمی ادارے جامعہ نظامیہ سے منسلک وقف جائیدادہے۔اس جائیداد کومرکزی حکومت کے قومی’امید پورٹل پراپ لوڈ اوراسکیان تصدیق کے بعد ایک منفرد وقف آئی ڈی بھی الاٹ کی گئی ہے ۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق